ازبکستان کے ایک چڑیا گھر میں ایک نایاب اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک شخص اپنی منگیتر کو متاثر کرنے کے لیے شیر کے پنجرے میں قدم رکھ بیٹھا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا جب 44 سالہ ایف ایرسکولو، جو چڑیا گھر میں زوکیپر کے طور پر کام کر رہا تھا، نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی منگیتر کو خوش کرنے کے لیے شیر کے پنجرے میں جائے گا۔ ایف ایرسکولو نے شیر کے ساتھ بات کرنے اور ویڈیو بنانے کی کوشش کی، اور اس دوران وہ شیر کے پنجرے میں داخل ہو گیا۔ اس نے منگیتر کو مخاطب کرتے ہوئے شیر کے ساتھ باتیں کیں اور شیر کے پنجرے کے دروازے کو کھول دیا۔لیکن، شیر بھوکے تھے اور انھوں نے فوراً ایف ایرسکولو پر حملہ کر دیا۔ ایف ایرسکولو کی چیخیں اور سسکیاں موبائل فون پر ریکارڈ ہو گئیں، اور یہ آوازیں اس کے لیے آخری ثابت ہوئیں۔ شیر نے اس پر حملہ کر لیا اور اس کو کھا لیا۔ ایف ایرسکولو کی باقیات تقریباً 4 گھنٹے بعد شیر کے پنجرے سے نکالی گئیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ تینوں شیر جو ایف ایرسکولو کے حملے کے بعد چڑیا گھر سے فرار ہو گئے تھے، ان میں سے ایک شیر کو بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایف ایرسکولو ایک ماہر زوکیپر تھا اور اس نے شیر کے پنجرے میں جانے سے پہلے کسی حفاظتی تدابیر کا خیال نہیں رکھا تھا۔ یہ واقعہ چڑیا گھر کے لئے ایک بڑا دھچکا تھا اور ان کے دیگر عملے کے لئے بھی ایک سبق ثابت ہوا۔