بھارتی ریاست اتر پردیش کے گاؤں سنگن پور میں 20 سالہ نوجوان لڑکی کی پراسرار گمشدگی نے علاقے میں خوف و ہراس اور چہ مگوئیوں کو جنم دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اہلِ خانہ نے بتایا کہ لڑکی اتوار کی رات اپنے کمرے میں سونے گئی تھی، لیکن پیر کی صبح بیٹی موجود نہیں تھی۔ کمرے میں اس کے بستر پر کپڑے اور زیورات رکھے ہوئے تھے، جبکہ قریب تقریباً 5 فٹ لمبی سانپ کی کھال بھی پڑی ہوئی تھی۔ اس کے فرش میں سانپ کا ایک بل بھی ملا ہے۔گاؤں میں خبریں پھیلتے ہی بعض افراد نے واقعے کو توہم پرستی سے جوڑتے ہوئے اسے ’اِچّھا دھاری ناگن‘ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ شدید پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی جلد از جلد بحفاظت بازیاب ہو۔
پولیس نے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور لڑکی کی تلاش کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس نے کہا کہ لڑکی کے سانپ میں تبدیل ہونے کی خبریں محض افواہیں ہیں اور گھر سے موبائل فونز تحویل میں لے کر کال ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق کمرے میں سانپ کی کھال اور کپڑوں کی موجودگی تفتیش کو گمراہ کرنے یا توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔