پنجاب : پینے کے صاف پانی کا بحران

پنجاب کے متعدد اضلاع میں زیر زمین پانی آلودہ، آرسینک اور مائیکروبیل جراثیم شامل ، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ 
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب میں پینے کے پانی کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑ گئی ،محکمہ ہاوٓسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی رپورٹ میں چشم کشا انکشافات،متعدد اضلاع میں زیر زمین پانی آلودہ، آرسینک اور مائیکروبیل جراثیم شامل ،ماہرین نے خبردار کیاہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ ہاوٓسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ کی تازہ رپورٹ نے صوبے بھر میں زیر زمین پانی کی تشویشناک صورتحال کو بے نقاب کر دیا۔رپورٹ کے مطابق ضلع فیصل آباد میں مجموعی طور پر پانی آلودہ پایا گیا،اگرچہ آرسینک موجود نہیں تاہم کئی مقامات پر مائیکروبیل آلودگی سامنے آئی۔ضلع چنیوٹ میں 23 فیصد زمینی پانی آلودہ جہاں 10 فیصد میں آرسینک اور 13 فیصد میں مائیکروبیل آلودگی ریکارڈ کی گئی۔ضلع جھنگ میں 29 فیصد زیر زمین پانی کڑوا ہو چکاجبکہ دریائے چناب اور جہلم کے اطراف آرسینک کا سنگین مسئلہ موجود ہے۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا زیر زمین پانی بھی کڑوا ہو چکا،خصوصاً کمالیہ کے گرد و نواح میں آرسینک آلودگی پائی گئی۔ضلع ساہیوال میں 45 فیصد زمینی پانی آلودہ جبکہ 10 فیصد پانی میں آرسینک شامل ہیالبتہ لاہور میں زیر زمین پانی میں آرسینک نہیں پایا گیا۔ضلع پاکپتن میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہیجہاں سوفیصد زمینی پانی آلودہ ہو چکا ہیاگرچہ آرسینک نہ ہونے کے برابر ہے مگر 20 فیصد پانی مائیکروبیل آلودگی کا شکار ہے۔ضلع اوکاڑہ میں 43 فیصد زمینی پانی آلودجبکہ 70 فیصد پانی میں آرسینک پائی گئی۔ضلع ملتان میں پینے کا پانی محفوظ نہیں،زیر زمین نمونوں میں کیمیکل اور بھاری دھاتوں کی مقدار قومی و عالمی معیار سے زیادہ ہے۔ضلع خانیوال میں 80 فیصد زمینی پانی آلودہ ،جہانیاں 95 ، کبیر والا 5 اور میاں چنوں میں 40 فیصد پانی غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ضلع لودھراں کے شہری علاقوں میں 25 فیصد مائیکروبیل اور 3.5 فیصد آرسینک آلودگی رپورٹ ہوئی۔ضلع بہاولپور میں دو مختلف پہلو سامنے آئیجہاں 64 فیصد زمینی پانی آلودہ ہے،39 فیصد میں آرسینک اور 17 فیصد میں مائیکروبیل آلودگی جبکہ ایک اور جائزے کے مطابق 83 فیصد پانی آلودہ اور 15 فیصد میں آرسینک شامل ہے۔ضلع بہاولنگر میں 83 فیصد پانی آلودہ ،اگرچہ آرسینک موجود نہیں مگر دیگر آلودگی مسائل برقرار ہیں۔ضلع رحیم یار خان میں 60 فیصد پانی آلودہ، کھارا ہوچکاجو پینے کے قابل نہیں رہا۔ڈیرہ غازی خان ون میں 25 فیصد اور ڈی جی خان الیون میں 20 سے 25 فیصد پانی مائیکروبیل اور آرسینک کا شکار ہے۔ضلع مظفرگڑھ کے شہری علاقوں میں آرسینک جبکہ دیہی علاقوں میں پانی آلودہ ہے۔ضلع راجن پور میں 20 سے 25 فیصد زمینی پانی مائیکروبیل اور آرسینک آلودگی پر مشتمل ہے۔ماہرین کے مطابق پانی میں موجود آرسینک جلد، جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہیاور طویل عرصے تک استعمال کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ آرسینک سے آلودہ پانی بچوں کی ذہنی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔اسی طرح مائیکروبیل آلودگی اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور آنتوں کی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہیاور غیر معیاری پینے کا پانی بچوں اور بزرگوں کیلئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پینے کے پانی کے مسئلے پر عرصہ سے توجہ نہیں دی گئی متبادل ذرائع کے بغیر مسلسل ٹیوب ویلز لگانے سے زمینی پانی پر دباوٓ بڑھتا گیا۔ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نہ لگنے پر گندہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ زیر زمین شامل ہوتا رہاجس سے زمینی پانی شدید آلودگی کا شکار ہو گیا۔