بالی ووڈ کی فلم "چھاوا" 14 فروری کو ریلیز ہونے جا رہی ہے، جس میں وکی کوشل، راشمیکا مندنا اور اکشے کھنہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ فلم چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی زندگی پر مبنی ہے، جس کی کہانی تاریخی پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم، فلم کی ریلیز سے پہلے سینسر بورڈ نے اس میں کئی تبدیلیاں کروا دی ہیں۔سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) نے فلم کو U/A 16+ سرٹیفیکٹ کے ساتھ پاس کیا، لیکن اس میں کچھ مکالموں اور مناظرات میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ سینسر بورڈ کی ہدایت کے مطابق، "مغل سلطنت کا زہر" کو بدل کر "اُس وقت کئی حکمران اور سلطنتیں خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں" کر دیا گیا۔ "خون تو آخر مغلوں کا ہی ہے" کو "خون تو ہے اورنگ کا ہی" سے تبدیل کر دیا گیا، اور "حرامزادہ" جیسے الفاظ کو مکمل طور پر میوٹ کر دیا گیا۔ "آمین" کے لفظ کو "جے بھوانی" میں بدل دیا گیا۔فلم کے پہلے حصے میں ایک خاص ڈائیلاگ کو حذف کر دیا گیا، اور ایک سین میں مارٹھا جنگجوؤں کو ساڑھی میں دکھانے والا منظر بھی سینسر بورڈ نے حذف کر دیا۔
فلم کے تاریخی حوالوں میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔فلم کو سنسر سرٹیفیکٹ 1 فروری 2025 کو جاری کیا گیا، اور اس کی کل لمبائی 161.50 منٹ یعنی 2 گھنٹے 41 منٹ اور 50 سیکنڈ ہے۔ اس فلم کی ہدایتکاری لکشمن اُٹیکر نے کی ہے، جنہوں نے اس سے پہلے "لوکا چھپی" اور "زرا ہٹکے زرا بچکے" جیسی فلموں کی ہدایتکاری کی تھی۔فلم کے سینسر کٹس پر سوشل میڈیا پر بحث ہو رہی ہے، تاہم فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ریلیز کا جوش و خروش کم نہیں ہوا ہے، اور وکی کوشل کے مداح بے صبری سے اس فلم کا انتظار کر رہے ہیں۔