عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئی ایم ایف وفد سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے زیر انتظام ایک ڈوزئیر تیار کیا ہے، جس میں پارٹی پر گزشتہ دو سالوں میں ہوئے مظالم کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔فیصل چوہدری نے کہا کہ پارٹی نے اس ڈوزئیر کو آئی ایم ایف وفد کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ انہیں پی ٹی آئی پر ہونے والے ظلم و ستم سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی قیادت عمران خان نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور جوڈیشل کمیشن کے ارکان کو آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔عمران خان کے وکیل نے مزید کہا کہ پارٹی نے جوڈیشل کمیشن، ججز کی تقرری اور کورٹ پیکنگ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے وکلاء کی تحریک کو بھی سپورٹ دینے کی بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کا موقف یہ ہے کہ موجودہ حکومت کا مفاد ملکی مفاد سے متضاد ہے اور پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کو ختم کیا جا رہا ہے۔
فیصل چوہدری نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو عدلیہ کے سامنے فیئر ٹرائل کی ضمانت نہیں دی جا رہی، اور ان کا ٹرائل ایک کنٹرولڈ ماحول میں کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف پی ٹی آئی نے کھلی عدالت میں ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ موجودہ حکومتی رویہ اور ٹرائل کے معاملات پر میڈیا کا جرات کے ساتھ رویہ اپنانا ضروری ہے، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ ہم گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کو فروغ دینے کا عزم رکھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے مقاصد اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے تلخ حقیقتوں پر بات کرنا ضروری ہے تاکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔