ممتا کلکرنی کا نیا ویڈیو پیغام؛ حیران کن انکشافات سامنے آگئے

ممتا کلکرنی کا نیا ویڈیو پیغام؛ حیران کن انکشافات سامنے آگئے

سابق بالی ووڈ اداکارہ ممتا کلکرنی، جو روحانی دنیا میں 'مہامنڈلیشور یامائی ممتا نندگیری' کے نام سے جانی جاتی ہیں، نے کنر اکھاڑے کے مہامنڈلیشور کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

 انہوں نے ایک سوشل میڈیا ویڈیو کے ذریعے اس فیصلے کا اعلان کیا۔

استعفے کی وجوہات
ممتا کلکرنی نے بتایا کہ وہ 25 سال سے روحانی سفر پر گامزن تھیں اور حال ہی میں انہیں اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کی تقرری پر مختلف حلقوں میں تنازعات اور اعتراضات اٹھائے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اب بھی سادھوی رہیں گی اور اپنے گرو چیتنیا گگنگیری مہاراج کے اصولوں پر کاربند رہیں گی۔

معاملے میں مالی تنازع بھی شامل
ممتا کلکرنی نے اپنی ویڈیو میں ذکر کیا کہ آچاریہ لکشمی نرائن ترپاٹھی نے ان سے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا، جو بعد میں مہامنڈلیشور جے امبا گری نے اپنی جیب سے ادا کیے۔

تنازع کا پس منظر
ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا جب کنر اکھاڑے کے بانی رشی اجے داس اور آچاریہ مہامنڈلیشور لکشمی نرائن ترپاٹھی کے درمیان ممتا کلکرنی کی تقرری پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

بالی ووڈ سے روحانیت تک کا سفر
ممتا کلکرنی 90 کی دہائی کی مشہور اداکارہ تھیں، جو کرن ارجن اور بازی جیسی کامیاب فلموں میں جلوہ گر ہو چکی ہیں۔ لیکن شہرت کی بلندیوں کو چھوڑ کر، انہوں نے 25 سال پہلے روحانی سفر اختیار کیا اور بالی ووڈ کو خیرباد کہہ دیا۔