کینیڈا کے وفاقی وزیرِ امیگریشن مارک ملر نے کہا ہے کہ کینیڈا ایک خوددار اور خودمختار قوم ہے اور وہ امریکا کی 51 ویں ریاست کبھی نہیں بنے گا۔
مارک ملر نے یہ بیان کینیڈا کے شہر برامپٹن میں پاکستانی نژاد کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ شفقت علی کے ہمراہ مقامی میڈیا سے گفتگو کے دوران دیا۔
امیگریشن پالیسی اور سخت فیصلے
وزیرِ امیگریشن نے امیگریشن پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کینیڈین ویزا آفس کام کر رہا ہے، تاہم زیادہ تر کام 'گلوبلی نیٹ ورک' کے ذریعے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین حکومت ہاؤسنگ اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے امیگریشن پالیسی کے حوالے سے سخت فیصلے کر رہی ہے۔
جعلی امیگریشن اور طلبہ کے لیے کریک ڈاؤن
مارک ملر نے واضح کیا کہ کینیڈا نئے امیگرنٹس اور انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو خوش آمدید کہتا ہے لیکن کسی کو سسٹم کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جعلی دستاویزات پر کینیڈا آنے والے طلبہ اور غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے، اور غیر قانونی امیگرنٹس کو قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔