واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اپنے قریبی مشیر اور موجودہ ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔
وہ 9 نومبر 2026 سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور سوسی وائلز کی جگہ لیں گے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں اس تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیفن ملر ان کے قابلِ اعتماد مشیروں میں شامل ہیں اور انتظامیہ کے ساتھ طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں اسٹیفن ملر کی صلاحیتوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کی ذمہ داری سونپنے پر خوشی ہے۔
سوسی وائلز کو نئی ذمہ داری مل گئی
امریکی صدر نے موجودہ چیف آف اسٹاف سوسی وائلز کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے اپنے عہدے پر بہترین کام کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق سوسی وائلز اب ان کے سیاسی امور کے شعبے میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔سوسی وائلز وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف بننے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم اور بعد ازاں صدارتی انتظامیہ میں اہم کردار ادا کیا۔
اسٹیفن ملر کون ہیں؟
اسٹیفن ملر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دیرینہ اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مہم سے ان کے ساتھ وابستہ رہے اور دوسری انتظامیہ میں بھی اہم پالیسی معاملات پر کام کرتے رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملر امریکی امیگریشن پالیسی اور غیرقانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری سے متعلق حکومتی اقدامات کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی وہ انتظامیہ کے پالیسی امور کی نگرانی کر رہے تھے۔
وسط مدتی انتخابات کے بعد وائٹ ہاؤس میں تبدیلی
اسٹیفن ملر کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کئی اہم نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے۔سیاسی مبصرین اس تبدیلی کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایک اہم انتظامی ردوبدل قرار دے رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے اس تقرری کو انتخابی نتائج کا ردعمل قرار دینے کے بجائے انتظامی تبدیلی کا فیصلہ بتایا ہے۔