اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، جس کے باعث اجلاس میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
اسپیکر کا قابل اعتراض الفاظ حذف کرنے کا حکم
اسمبلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کارروائی کے دوران عمر ایوب اور حکومتی ارکان کی جانب سے ادا کیے گئے قابل اعتراض الفاظ کو حذف کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی اسپیکر نے اسمبلی اجلاس کی لائیو اسٹریمنگ بھی بند کروا دی۔
عمر ایوب کا حکومت پر سخت تنقید
تقریر کے دوران عمر ایوب نے مہنگائی کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا:"فارم 47 والے اگر باہر جا کر کہیں گے کہ مہنگائی کم ہوگئی ہے، تو انہیں جوتے پڑیں گے۔"ان کے اس بیان پر حکومتی بینچوں سے سخت ردعمل آیا، اور ایک حکومتی رکن نے قابل اعتراض لفظ ادا کیا، جس پر عمر ایوب نے بھی وہی لفظ دہرا دیا۔ اس پر اسپیکر ایاز صادق نے فوری مداخلت کرتے ہوئے تمام غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کرنے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں پر اعتراض
اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا:"ہمارے ارکان کو دھمکایا جا رہا ہے، پنجاب پولیس نے احمد چٹھہ کے گھر چھاپہ مارا اور اسامہ میلہ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔""کارکنوں کے گھروں پر حملے کے دوران ہارٹ اٹیک سے دو افراد کا انتقال ہو چکا ہے۔""ہمارے پارٹی سربراہ کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جھوٹے کیس میں سزا دی گئی ہے، توشہ خانے کا اصل ریکارڈ نکالا جائے اور گاڑیاں لینے والوں کے نام عوام کے سامنے رکھے جائیں۔"
حکومتی بینچوں کا ردعمل
عمر ایوب کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شدید نعرے بازی کی اور ان کی باتوں پر بار بار مداخلت کی، جس کی وجہ سے اسپیکر کو کئی بار اجلاس کو کنٹرول کرنا پڑا۔اسمبلی میں جاری اس ہنگامہ خیز صورتحال کے بعد امکان ہے کہ اگلے اجلاس میں بھی اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوسکتا ہے۔