قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرِ اعظم کی آمد کے ساتھ ہی اپوزیشن کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی شروع کردی۔
اپوزیشن کے اس احتجاج کے دوران ماحول کشیدہ رہا اور حکومتی ارکان نے بھی جواباً نعرے بازی کی۔
اپوزیشن کا احتجاج
وزیرِ قانون کے بیان کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا کیا، جس کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی متاثر ہوئی۔ اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے مختلف نعروں کے ذریعے اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔
حکومتی ارکان کا ردعمل
اپوزیشن کی نعرے بازی کے جواب میں حکومتی بینچز سے "شیر آیا، شیر آیا" کے نعرے بلند ہوئے۔ حکومتی ارکان نے اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے اقدامات کی حمایت میں آواز بلند کی۔
ایوان کی فضا
ایوان کی فضا اس موقع پر کافی ہنگامہ خیز رہی، جس کے باعث کئی اراکین کی تقاریر مکمل نہ ہو سکیں۔ ایوان میں شور شرابے کے سبب اسپیکر کو اجلاس کے نظم و ضبط کو بحال کرنے کے لیے بارہا مداخلت کرنی پڑی۔
پس منظر
اپوزیشن کا احتجاج موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ فیصلوں کے خلاف تھا، جبکہ حکومتی ارکان نے اسے غیر ضروری اور ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا حربہ قرار دیا۔
آئندہ لائحہ عمل
ایوان کی کارروائی کے دوران وزیرِ اعظم نے اپوزیشن کے احتجاج کا نوٹس نہیں لیا اور حکومتی ارکان نے ان کا دفاع جاری رکھا۔ اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔