بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ صوبے میں ایک نئے اینٹی کرپشن فورس ایکٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جسے جلد کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔
اینٹی کرپشن فورس ایکٹ کی تفصیلات:
محکمہ اینٹی کرپشن کے اختیارات میں اضافہ:
نیا قانون محکمہ اینٹی کرپشن کو بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کا اختیار دے گا۔عوام کو دھوکہ دینے والے عناصر کے خلاف بھی اینٹی کرپشن ادارہ براہِ راست کارروائی کر سکے گا۔
نئی بھرتیاں اور استعداد کار میں اضافہ:اینٹی کرپشن فورس میں نئی بھرتیاں کی جائیں گی اور ڈیپوٹیشن پر آئے عملے کو واپس بھیجا جائے گا۔اینٹی کرپشن فورس میں 10 سے زیادہ افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔
مضبوط پراسیکیوشن سسٹم:
ڈی جی اینٹی کرپشن کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیا جائے گا۔ادارہ عدالتوں میں کیسز کو مؤثر انداز میں لڑنے کے لیے اپنے پراسیکیوٹرز بھرتی کرے گا۔تحقیقات کے نئے اصول:اینٹی کرپشن فورس میں تین ونگز ہوں گے، جن کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کریں گے۔ہر انویسٹی گیٹر کو 6 ماہ میں انکوائری مکمل کرنا ہوگی، ناکامی کی صورت میں مزید 6 ماہ کا وقت دیا جائے گا۔
اگر ایک سال کے اندر انکوائری مکمل نہ ہو تو کیس بند کر دیا جائے گا۔
ٹریننگ اور انعامات:
اینٹی کرپشن فورس کے اہلکاروں کو 4 ماہ کی ٹریننگ اسلام آباد میں دی جائے گی۔اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران اور کرپشن کے خلاف معلومات فراہم کرنے والے شہریوں کو انعامات دیے جائیں گے۔غلط کیسز بنانے پر سخت سزا:اگر کسی افسر نے غلط کیس بنایا تو اسے 3 سے 7 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
حکومتی مؤقف:
مشیر احتساب خیبر پختونخوا مصدق عباسی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس نئے اینٹی کرپشن قانون کی منظوری دے دی ہے، اور جلد ہی کابینہ سے بھی اس کی حتمی منظوری حاصل کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق کرپشن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کرپٹ عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
یہ قانون خیبر پختونخوا میں اینٹی کرپشن نظام کو مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔