خط کے مندرجات بہت اہم ہیں ان پر نظر ثانی کی جانی چاہیے‘ عوام اور فوج کے مابین فاصلے بڑھ رہے ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے عوام اور فوج کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہے
جمہوریت ختم ہے، عدلیہ کنٹرول ہے ہمیں احتجاج نہیں کرنے دیا جارہا، خط لکھنے کا مقصد اہم معاملات کی طرف توجہ دلانا ہے‘دوسرا خط اس لئے لکھا کیونکہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے:سابق وزیر اعظم
اسلام آباد(آئی این پی)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے اگلے ہفتے آرمی چیف کو ایک اور خط لکھوں گا 26 ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کو کنٹرول کیا جارہا ہے، اڈیالہ جیل کے اندر بھی کنٹرولڈ ماحول میں ٹرائل کیا جارہا ہے۔یہ بات اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کے وکیل فیصل چودھری نے بتائی۔انہوں نے کہا توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران ہم نے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے انہیں کھلی عدالت میں پیش کرنے کی درخواست دائر کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا حق ہے کہ ان کا اوپن ٹرائل ہو۔ان کا کہنا تھا عوام کو اوپن جیل ٹرائل میں اجازت نہیں دی جاتی اڈیالہ جیل کے اندر کنٹرولڈ ماحول میں ٹرائل کیا جارہاہے۔فیصل چودھری نے بتایا کہ صحافیوں اور وکلا میں پک اینڈ چوز کیا جاتا ہے، وکلا کی فائلیں اسکین کرکے ان کی فائلوں کو کہیں اور بھیجا جاتا ہے، بانی اور بشری بی بی سیاسی عداوت کا نشانہ بنائے جارہے ہیں، ہم عالمی میڈیا سے بھی مخاطب ہیں بانی کو اوپن ٹرائل کا حق نہیں دیا جارہا، بانی کو فیئر ٹرائل کا کوئی حق نہیں دیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے تحت فیئر ٹرائل چاہتے ہیں، ہم ہیومن رائٹ فورسز سے بھی مخاطب ہیں، بانی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔فیصل چوہدری کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ آرمی چیف کو دوسرا خط اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے، 26ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کو کنٹرول کیا جارہا ہے، پاکستان رول آف لا انڈیکس پر 140 ویں نمبر پر ہے وہ ملک کی بہتری کیلئے بات کرتے رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ خط کے مندرجات بہت اہم ہیں ان پر نظر ثانی کی جانی چاہیے‘عوام اور فوج کے مابین فاصلے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے عوام اور فوج کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہے، جمہوریت ختم ہے، عدلیہ کنٹرول ہے ہمیں احتجاج نہیں کرنے دیا جارہا، خط لکھنے کا مقصد اہم معاملات کی طرف توجہ دلانا ہے۔