جن کی ذمہ داری تھی وہ گل پلازہ پر موجود ہی نہیں تھے ، بتایا جائے یہ خون کس کے ہاتھ پر ہے؟
ذمہ داروں کا تعین کرکے فوری سزا دی جائے،خود کوبھی کمیشن میں پیش کر کرنے کوتیارہوں
کراچی (آئی این پی )گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سانحے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے ۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ آگ دوگھنٹے بعد نہیں بجھائی جاتی، فوری اقدام ہوتا ہے۔ گورنر سندھ بولے کہ انہوں نے 2گھنٹے بعد ہی گل پلازہ پہنچ کرلوگوں کے زخموں پرمرہم رکھا، ریسکیو اداروں کوبلوایا، پانی منگوایا، ٹریفک کھلوائی، یہ نہیں چلے گا کہ گورنر ریسکیو کے لیے گیا تو اسی پرالزام لگادوکہ وہ کیوں گیا، جن کی ذمہ داری تھی وہ گل پلازہ پر موجود ہی نہیں تھے ، بتایا جائے یہ خون کس کے ہاتھ پر ہے؟۔گورنر سندھ نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کرنیوالو، کراچی کے لوگوں کے دلوں میں نفرت آچکی ہے، بے حسی کی انتہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، گورنر سندھ نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے فوری سزا دی جائے۔گورنر سندھ نے سانحے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے اور خود کوبھی کمیشن میں پیش کر کرنے اعلان کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سے کہیں گے کہ کراچی آپ کا منتظر ہے، دیکھیں یہاں کس نے زیادتی کی ہے‘گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک پلاٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔