غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور ایک بار پھر اسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے النصر اسپتال کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد شہید ہوگئے۔ شہداء میں 4 صحافی بھی شامل ہیں جو موقع پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
شہید ہونے والے صحافیوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ان میں:
حسام المصری (کیمرہ مین، رائٹرز)،
مریم ابودقہ (نامہ نگار، ایسوسی ایٹڈ پریس اور برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ),
ابوطحٰہ (رپورٹر، امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی),
محمد سلامہ (فوٹو جرنلسٹ، الجزیرہ) شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج اور وزیراعظم آفس نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صحافیوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی صحافتی اداروں کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں 244 صحافی شہید ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد جدید تاریخ میں کسی بھی جنگ کے دوران صحافیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت النصر اسپتال میں مریضوں کے ساتھ بڑی تعداد میں بے گھر خاندان بھی موجود تھے، جن میں کئی زخمی اور جاں بحق ہونے والے شامل ہیں۔ اسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ طبی سہولتوں کی کمی اور مسلسل بمباری کے باعث زخمیوں کو بروقت امداد فراہم کرنا ممکن نہیں ہو رہا۔