چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ بیان پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ چین کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال یا خطرے کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کے مطابق تمام ممالک کو ایک دوسرے کے داخلی امور کا احترام کرنا چاہیے۔یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے مظاہرین کے حوالے سے کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکہ سخت کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں اور ہلاکتوں کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں قتل عام جاری ہے اور ہلاکتوں کی درست تعداد جلد معلوم کر لی جائے گی۔
علاوہ ازیں، امریکی صدر نے ایرانی مظاہرین کے لیے یہ پیغام بھی دیا کہ وہ احتجاج جاری رکھیں کیونکہ امریکہ کی جانب سے جلد مدد پہنچانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔چین کا یہ بیان عالمی سیاست میں ایک محتاط رویہ اور طاقت کے ذریعے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کا واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران میں مظاہروں کے بعد بین الاقوامی سطح پر ردعمل بڑھ رہا ہے۔