وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
اس اجلاس میں ہر ضلع، تحصیل، اور شہر کے بیوٹیفکیشن پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس منصوبے کا مقصد پنجاب کے 39 اضلاع میں 132 بیوٹیفکیشن سکیموں کو مکمل کرنا ہے، جن کی مجموعی لاگت 16.9 ارب روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے فیز کی تکمیل کے لیے فروری سے مئی تک کا ہدف مقرر کیا ہے، اور اب تک 97 ورک آڈر جاری کیے جا چکے ہیں جن میں سے 88 پروجیکٹس شروع ہو چکے ہیں۔پراجیکٹس میں قدیم دروازوں کی بحالی، فائبر گلاس اور ٹین سائل کی تنصیب، واٹر فیچر، فوارے، اور مصنوعی آبشاروں کی تخلیق شامل ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی بازاروں میں خوبصورت گرین بیلٹس اور فٹ پاتھ پر کلر ٹائلز لگانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔مریم نواز شریف نے بیوٹیفکیشن کے معیار کی مانیٹرنگ کے لیے ایک ڈیش بورڈ بنانے کا عندیہ دیا ہے، جس میں ہفتہ وار اپ ڈیٹ ہوگی۔
اس کے علاوہ، اسسٹنٹ کمشنروں کے لیے کارکردگی کے معیارات مقرر کیے جائیں گے، اور کھلے مین ہول، ٹوٹی سڑکیں، گندگی اور تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مختلف شہروں کے مخصوص اہداف بھی مقرر کیے ہیں، جیسے کہ رحیم یار خان، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، چکوال اور دیگر شہروں میں بیوٹیفکیشن پروجیکٹس کی تکمیل کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر شہر کو خوبصورت اور صاف ستھرا بنانا ان کا خواب ہے اور اس کا مقصد عوام کو بہتر اور دلکش ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے عوام کی سہولت کا بھی خاص خیال رکھنے کی ہدایت دی ہے تاکہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔