اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جناح میڈیکل کمپلیکس اور ریسرچ سینٹر کے منصوبے پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چینی کمپنی HONGKONG-AOHUA کی جانب سے پیش کردہ اسپتال کے کنسیپٹ ڈیزائن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ ڈیزائن کمپنی نے پاکستان کو ایک تحفے کے طور پر بغیر کسی معاوضے کے تیار کیا ہے۔ ہانگ کانگ-آوہوا کمپنی دنیا بھر میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ایک ہزار سے زائد اسپتالوں کے ڈیزائن بنا چکی ہے۔ پاکستان کے لیے عالمی معیار کا ڈیزائن رضاکارانہ طور پر تیار کرنا پاک-چین دوستی اور عوامی روابط کی گہرائی کا عملی ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے چینی کمپنی کی قیادت اور ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحفہ حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے بھی بے حد قیمتی ہے، اور اس اسپتال سے صحتیاب ہونے والے مریض بھی اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کو عالمی معیار کے مطابق ایک جدید ترین ٹرشری کیئر اسپتال بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ڈیزائن کا مکمل تکنیکی جائزہ لیا جائے اور منصوبے میں ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے پیش کردہ ڈیزائن میں ممکنہ وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی شامل ہے جو ایک مثبت اور دوراندیش پہلو ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے ماحول دوست اقدامات پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں پانی کی بچت، وسائل کے مؤثر استعمال، شمسی توانائی، قدرتی روشنی، پانی کی ری سائیکلنگ اور سرسبز ماحول کو ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے جناح میڈیکل کمپلیکس کو اسلام آباد کے دیگر اسپتالوں سے ڈیجیٹل طور پر منسلک کرنے کی ہدایت کی اور زور دیا کہ منصوبہ مقررہ مدت میں تمام مراحل کے ساتھ مکمل ہونا چاہیے۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر مشرف زیدی، چیئرمین پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر، چینی کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر لیو-ژانپئی اور وفد سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔