پارکنگ کمپنی میں گھپلے

 روزانہ ساڑھے 28ہزار وہیکلز کو ٹوکن جاری، اوورچارجنگ کی مد میں سالانہ 3 ارب روپے وصول 
 لاہور ( خصوصی رپورٹ )لاہور پارکنگ کمپنی میں زائد وصولیوں کی مد میں روزانہ لاکھوں کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق کو اہداف ماہرانہ طریقہ اپنا کر بتائے گئے ،3ارب ریونیو دینے والی پارکنگ سائٹس پر نصف ریونیو جمع ہو سکا۔وزیر بلدیات نے سی ای او پارکنگ کمپنی سے 15روز میں رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیل کے مطابق پارکنگ کمپنی میں اوور چارجنگ کی مد میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ پارکنگ سائٹس پر شہریوں اور ہسپتالوں میں مریضوں کے کواحقین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جانے لگا ۔پارکنگ کمپنی دستاویزات کے مطابق کمپنی کے 6زون میں مجموعی طور پر 244 رجسٹرڈ سائٹس موجود ہیں جن میں سے 182 فعال اور 62 غیرفعال ہیں جو قابضین کے پاس ہیں جبکہ آف سٹریٹ 7 اور 162 آن سٹریٹ سائٹس ہیں۔پارکنگ کمپنی دستاویزات کے مطابق پارکنگ سائٹس پر روزانہ 7ہزار 500 گاڑیوں ،21 ہزار بائیکس کے ٹوکن ایشو کئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف پارکنگ سائٹس پر اوورچارجنگ کی مد میں روزانہ لاکھوں ،ماہانہ کروڑوں جبکہ سالانہ اربوں روپے کمائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشنل 182پارکنگ سائٹس پر اوورچارجنگ کی مد میں 3 ارب روپے وصول کئے جاتے ہیں ۔دستاویزات کے مطابق سالانہ ریونیو 1 ارب 79 کروڑ ، 1 ارب 70 کروڑ کے اخراجات ہیں، کمپنی کو ایک سال میں صرف 8 کروڑ 83 لاکھ کا منافع ہوا۔ ادھر وزیر بلدیات کا کہنا تھا اوورچارجنگ کی شکایات پر سخت ایکشن لیا جائے گا، ماسٹر پلان کے بغیر اہداف کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔