تین سال میں 7 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگی ہوئی‘ ڈی ڈی او کے نام پر غیر قانونی فنڈز حاصل کئے گئے
لاہور(دانش منیر)محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آگئیں تین سال میں کروڑوں روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیاآ‘ڈٹ جنرل کی رپورٹ نے تین سال کا کٹھا چٹھا کھول کر رکھ دیا ‘تین سال میں 7 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگی سامنے آگئی ‘تین سالوں میں مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے سے زائد کی غیر قانونی خریداری گی‘پبلک نیوز کو موصول سرکاری دستاویزات کے مطابق سیکرٹری ایکسائز افس میں 7 کڑوڑ 40 لاکھ روپے سیزائد کی بے ضابطگی سامنے آگئی2020سے 22 اور 2022 سے 2023 کے عرصہ 7کروڑ چالیس لاکھ سے زائد کے گھپلوں سے پردہ چاک کردیا رپورٹ میں کہا گیا کہ آڈیٹر جنرل کو اخراجات کے دستاویز ہی فراہم نہ کیے گئے کیسز کے التواء اور پراسکیوشن کی کمزوری کے باعث گورنمنٹ کا ریونیو ہی بند رہا 4 کروڑ 99 لاکھ سے زائد رقم کی غیر قانونی خریداری 2020سے22 میں کی گئی اور مالی سال 22،23میں 64لاکھ 93 ہزارسے زائد کی غیر قانونی خریداری کی گئی دستاویز میں مزید کہا گیا کہ 2020 سے 2022 میں 3 لاکھ 54 ہزار 2 سو 85 روپے غیر قانونی ٹی اے ڈی کے طور پر درج ہوئے ،ایک لاکھ 82 ہزار 3 سو 88 روپے کی رقم بطور ایگزیکٹو الاؤنس غیر قانونی حاصل کی گئی، اور 55 لاکھ 88 ہزار 2 سو 70 روپے الاٹ شدہ بجٹ سے اضافی نکلوائے گیے جبکہ 66 لاکھ 22 ہزار سے زائد فنڈز سرنڈر نہ کرنے کی وجہ سے لیپس ہی کرگئے دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ 3 لاکھ 78ہزار روپے سے زائد گاڑیوں کی مینٹینس سیکنڈ ہینڈ سپیئر پارٹس سے کی گئی،اور 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد کے فنڈز ڈی ڈی او کے نام پر غیر قانونی فنڈز حاصل کیے،