علیم اللہ چودھری
پاکستانی سیاست اورجمہوریت میں گذستہ پانچ دھائیوں سے سیاستدانوں کی جانب سے کوئی نہ کوئی نعرہ اور بیانیہ سیاسی افق پر نمودار ہوتا آرہاہے سب سے پہلے 1970کی دھائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کے بیانیے کو نعرہ بنایاذوالفقار علی بھٹو کے اس بیانیے کو عوام نے پذیرائی بخشی اور یہ بیانیہ عوام میں مقبول ہوا اس کے علاوہ بھی اس ملک میں اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد میں مختلف سیاستدانوں نے عوام کے ساتھ وعدے کرتے ہوئے اپنے بیانیے کو سیاسی افق پرلانچ کیایہ الگ بات ہے کہ کسی سیاستدان کا بیانیہ عوام میں مقبول ہواتو کسی کا بیانیہ پٹ گیاچند ایک نعرے اوربیانیے عوام میں مقبول ہوئے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی جانب سے لگائے گیے نعرے اور بیانیے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے عوام کے ووٹوں کی طاقت سے بطور وزیراعظم تین مرتبہ اقتدار پر براجمان ہونے والے میاں نواز شریف نے گذشتہ آٹھ سال قبل اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد مجھے کیوں نکالا کے بیانیہ کو اپنا نعرہ بنایا اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد ملک میں رہ کر مقدمات کا سامنا کیااورپھر میاں نواز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک بھی چلے گئے‘جب میاں نواز شریف کو اقتدار سے الگ کرکے عمران خان کولایا گیا تو انھوں نے نئے پاکستان کے نعرے کواپنا بیانیہ بنایا ‘ عمران خان نے عدم اعتماد سے قبل اپنا ایک بیانیہ بنایا کہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو میں ان کے لیے اور بھی زیادہ خطر ناک ہوجاونگا ‘ ملک کے مقتدرحلقوں کو جھوٹے سیاسی بیانیوں کے بجائے عوامی و ملکی ترقی اور خوشحالی کے بیانیے اورنعرے کو عملی جامہ پہنانا ہوگا