بیانیہ، راز اور عالمی کھیل

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
آج کے اس پر فتن دورمیں ہرباضمیراورامن پسندانسان پوچھ رہاہے کہ کیا آپ نے کبھی کسی عالمی رہنماکواپنے ہی لوگوں کے مفاد کے خلاف اتنا حیران کن،اتناظالمانہ فیصلہ کرتے دیکھاہے؟غزہ کونہ صرف کھنڈرات میں تبدیل کرکے جبری طورپروہاں اپنی مرضی کانیا سیاحتی شہربنانے کیلئے اسی خطے کے دیگرممالک کوسرمایہ فراہم کرنے کاحکم دیاجائے اوراس کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کاواضح اعلان کرکے بادی النظرمیں ناجائزاورظالم ملک اسرائیل کوتحفظ فراہم کرنے کے پلان کوعملی طورپرحقیقت بنایاجائے۔یہ کہ آپ نے سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہے،ایک لیڈراس قدراتفاقی طورپرشہریوں پربمباری کرکے ہزاروں لوگوں کی ہلاکتوں کی نگرانی کرسکتا ہے،غیرملکی رہنماں کواغوایاقتل کرسکتاہے اوربغیرکسی پچھتاوے کے جھوٹ بول سکتاہے،وہ خودکواتنے معصوم کیسے محسوس کر سکتے ہیں کہ انہیں یقین ہوکہ وہ بیکس اورمعصوم بچوں،عورتوں،بوڑھوں،اورجوانوں کے قتل سے بچ سکتے ہیں اور پھربھی دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں۔
ایبسٹن فائلیں ایک خوفناک معقول جواب فراہم کرتی ہیں۔وہ اس طرح کام نہیں کررہے کیونکہ وہ مضبوط ہیں؟وہ اس طرح کام کررہے ہیں کیونکہ وہ سمجھوتہ کررہے ہیں،ان کا ماضی ان کے خلاف ایک ہتھیارہے کیونکہ وہ کرتے ہیں جوانہیں کہاجاتاہے،وفاداری کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اپنے جرائم کیانکشاف کے خوف یارازداری کی حفاظت کی اشد ضرورت کے تحت ان جرائم کاارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اوران جرائم کاراستہ ہمیں ٹرمپ تک بھی پہنچاتاہے۔ان کے فیصلہ سازی کی افراتفری کودیکھیں،فوڈ اسٹامپ،میڈیکیڈ اور ہاؤسنگ سبسڈی میں کمی کرتے ہوئے اربوں ڈالرزکے فوجی ہارڈویئراسرائیل کوبھیجے گئے۔ٹیرف کاہتھیاربنانا،غزہ میں جنگی جرائم میں غیر متزلزل شراکت،اوراب ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کی طرف بڑ ھناجوتیسری جنگ عظیم شروع کرنے کاحقیقی امکان لئے ہوئے ہے۔
یہ سوال بجاہے کہ بعض عالمی فیصلے عوامی مفادسے متصادم کیوں محسوس ہوتے ہیں۔جنگیں،پابندیاں،اورسیاسی اتحادیہ سب بسااوقات ایسے نتائج پیداکرتے ہیں جواخلاقی طورپر تشویشناک ہوتے ہیں۔مگران کی وجوہات کوصرف ایک خفیہ سازش تک محدودکردینا ضرورت سے بڑھ کرسادہ کاری اورسہل ہوگاجبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
عالمی رہنماؤں کوکسی منظم منصوبے کے تحت قابوکیاجاتاہے،بظاہرایک نہایت سنگین مفروضہ رہاہے۔جب کوئی عالمی رہنماایسافیصلہ کرتاہے جوعوامی مفادکے خلاف محسوس ہو،تودل میں ایک اضطراب جنم لیتاہے۔مگرکیاہرمتنازع فیصلہ کسی خفیہ دباؤکانتیجہ ہوتاہے؟ یہاں ہمیں سیاسی پیچیدگی کوپوری سنجیدگی کے ساتھ دیکھناہوگا۔تاریخی طورپر،داخلی سیاست،بین الاقوامی تعلقات اوردباؤ،معاشی مفادات، طاقت کے توازن،اورسفارتی اوردفاعی حکمت عملی کامرکب رہے ہیں اوریہ سب عوامل مل کرفیصلوں کی تشکیل کرتے ہیں،نہ کہ صرف خفیہ دباؤکانتیجہ۔
ہم اس خیال کوکہ رہنمااپنے ماضی کے بوجھ تلے دب کرفیصلے کرتے ہیں،یاکسی رازکی وجہ سے مجبورہوجاتے ہیں،ایک دلکش، پرکشش مگرخطرناک مفروضہ بھی قرارنہیں دے سکتے لیکن اگران فیصلوں کوبلیک میلنگ کانتیجہ قراردیں،تواس سے جہاں اداروں کی اہمیت کم ہوجاتی ہے،جمہوری عمل نظراندازہونے کے خدشات کاسامناکرناپڑتاہے،وہاں انسانی قدروں کوبے قدری اوربے توقیری کا سامناکرناپڑتاہے۔یادرکھیں کہ انسان کمزورہوسکتاہے،مگرہرکمزوری غلامی پرمجبورنہیں کرسکتی۔اگرچہ انسانی کمزوری ایک حقیقت ہے،مگر اداروں ،آئینی ڈھانچوں،اورجمہوری عمل کونظراندازکردیناہمیں حقیقت سے دورلے جاسکتاہے۔
ایک سنجیدہ مضمون نگارکیلئے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ نہ تواندھاانکارکرے اورنہ ہی غیرمصدقہ دعووں کوسچ کادرجہ دے۔یادرہے کہ فصاحت کے ساتھ ساتھ استدلال بھی غالب رہتا ہے بلکہ وہ ایک ایسااسلوب اختیارکرے جوسوال اٹھائے،دلائل پیش کرے اورقاری کو سوچنے پرمجبورکرے کہ آج کی دنیامیں کن خفیہ سازشوں سے ون ورلڈآرڈرکونافذکرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔۔تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب طاقت بے لگام ہوجائے،توجوابدہی کمزورپڑجاتی ہے۔آج کادورمحض اطلاعات کانہیں،بلکہ بیانیوں کی جنگ کا ہے۔ہرویڈیو،ہررپورٹ،ہردعویٰ ایک خاص زاویے سے پیش کیاجاتاہے۔یہاں قاری کاامتحان شروع ہوتاہے،کیاوہ صرف سنتاہے؟یاپرکھتابھی ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں ایک لکھاری کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ روشنی دکھائے،نہ کہ آگ بھڑکائے اورفیصلہ قاری پرچھوڑ دیاجائے۔
ہم ایک ایسے دورمیں ہیں جہاں ہرشخص کے ہاتھ میں ایک کہانی ہے مگرہرکہانی سچ نہیں ہوتی،اورہرسچ کہانی کی صورت میں سامنے نہیں آتا۔حقیقت اکثرشورمیں دب جاتی ہے،اور دانشمندی یہ ہے کہ ہم نہ صرف سنیں بلکہ چھانٹیں بھی۔لہذا،اگرہمارامقصدواقعی امن، انصاف اورعالمی شعورکافروغ ہے،تو ہمیں ایسے بیانیوں کوتنقیدی بصیرت،تحقیقی معیار،اور ادبی وقارکے ساتھ پیش کرناہوگاتاکہ ہم جذبات نہیں، بلکہ فہم کوبیدارکریں۔یہ تصورکہ رہنماخوف کے تحت فیصلے کرتے ہیں،انسانی نفسیات سے بعیدنہیں۔مگراسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ سیاست میں مفاد، نظریہ،اوردبا سب مل کرفیصلہ سازی کوتشکیل دیتے ہیں۔
ہم ایک ایسے دورمیں کھڑے ہیں جہاں سچ موجودہے،مگربکھرا ہوا،جھوٹ موجودہے،مگرپرکشش اورانسان موجودہے،مگرمتذبذب،لہذا، ہمیں یہ تسلیم کرناہوگاکہ ہربڑادعوی، بڑے ثبوت کاتقاضاکرتاہے۔اوراگرہمارامقصدواقعی امن ہے،توہمیں ایسے بیانیوں کوتحقیق کے پیمانے پرپرکھناہوگا،استدلال کے ترازومیں تولناہوگااوراخلاقی دیانت کے ساتھ پیش کرناہوگا۔
معاصرسیاست خواہ وہ ٹرمپ کادورہویاکوئی اورہمیشہ شدید تنقید اورمتضادبیانیوں کامرکزرہی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک لکھاری کو جذبات سیزیادہ توازن اور تحقیق کاسہارا لیناپڑتاہے۔تاریخ فاتحین لکھتے ہیں،مگرایک سنجیدہ قاری جانتاہے کہ تاریخ کوسمجھنے کیلئے مختلف زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے۔نتیجہ؟ سوال باقی ہے، مگر جواب ذمہ داری سے دینا ضروری ہے۔آخرکار، یہ بیانیہ ہمیں ایک اہم سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے،ہم کس چیز پر یقین کریں، اور کیوں؟یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ذمہ دار قلمکار کو چاہیے کہ وہ نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ قاری کو یہ بھی سکھائے کہ سچ کی تلاش کیسے کی جاتی ہے۔
تاریخ ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتی کہ کیا ہوا؛وہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم کیاماننے کیلئے تیارتھے۔لہذا،اصل سوال اب بھی قائم ہے مگراس کاجواب جذباتی یقین میں نہیں،بلکہ فکری جستجو میں پوشیدہ ہے۔یہ مضمون کسی دعوے کی توثیق نہیں بلکہ ایک فکری آئینہ ہے،جس میں ہم الزامات، تاریخ،اورسیاست کوایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کی ہے۔دانش وہ چراغ ہے جواندھیروں کوختم نہیں کرتا،مگر راستہ ضروردکھاتاہے۔
آخرکار،ہم ایک ایسے عہدمیں زندہ ہیں جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگریقین کی کمی۔ہرفائل،ہرتصویر،اورہر دعوی ایک داستان سناتا ہے مگرہر داستان کی پیچیدگی معاملہ کوسلجھانے کی بجائے مزیدالجھادیتی ہے اورایبسٹن فائلزکامقدربھی دانستہ اس سے منسلک کردیاگیا ہے تاکہ مجرم کے چہروں کادبیز نقاب ہٹانے سے قبل مقاصدکی تکمیل ہوسکے۔یہی وجہ ہے کہ اقتدارکے ایوانوں میں جوکچھ ہوتاہے،وہ ہمیشہ مکمل طورپرعوام کے سامنے نہیں آتا،لیکن اس کامطلب یہ بھی نہیں کہ ہرپردے کے پیچھے ایک ہی طرح کی کہانی چھپی ہو۔سچ اکثر دھندمیں لپٹاہوتاہے؛اوردانشمندی یہی ہے کہ ہم نہ صرف دیکھیں،بلکہ پرکھیں بھی۔پس،سوال اب بھی وہی ہے مگراس کاجواب جذباتی ردِعمل میں نہیں،بلکہ تحقیق، تنقید، اور فکری دیانت میں پوشیدہ ہے۔