سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
بیسویں اوراکیسویں صدی کی سیاسی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کبھی بھی محض قوتِ فیصلہ کانام نہیں رہی؛بلکہ وہ اکثر اثر،دبا،اورپوشیدہ مفادات کاایک پیچیدہ جال ہوتی ہے۔بعض اوقات ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن میں بڑے پیمانے پردستاویزات، تصاویریاشواہدکے دعوے کیے جاتے ہیں،ایسے دعوے جوبظاہرکسی فردکی ذاتی زندگی سے کہیں بڑھ کرایک وسیع ترنظامی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔لیکن یہاں احتیاط لازم ہے ہرچمکتی چیزسونانہیں ہوتی،اورہرسایہ حقیقت کاعکس نہیں ہوتا۔
یہ سوال کہ کوئی شخص اپنے مبینہ جرائم کااتناوسیع ریکارڈکیوں رکھے گا،بظاہرحیران کن ہے۔مگرتاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات طاقت کاکھیل صرف دولت یاعہدے سے نہیں کھیلاجاتا،بلکہ معلومات اوررازاس کھیل کی اصل کرنسی ہوتے ہیں جیساکہ ایک قدیم مقولہ ہے رازوہ تلوارہے جس کادستہ دکھائی نہیں دیتا،مگروارگہراہوتاہے۔اسی تناظرمیں، بعض مبصرین یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ طاقتورحلقوں کے مابین تعلقات محض رسمی یاسفارتی نہیں ہوتے،بلکہ ان میں ذاتی کمزوریوں،باہمی مفادات اوربعض اوقات دباکے عناصربھی شامل ہوسکتے ہیں۔تاہم،ایک سنجیدہ تحقیقی ذہن کیلئییہ ضروری ہے کہ وہ قیاس اورثبوت کے درمیان حد فاصل کوبرقراررکھے۔اقوامِ متحدہ یادیگراداروں کی رپورٹس بھی اسی وقت معتبرہوتی ہیں جب وہ آزادانہ تحقیق،شفاف طریقہ کاراورقابلِ تصدیق شواہدپرمبنی ہوں۔
جہاں تک عالمی قیادت کے بعض فیصلوں کاتعلق ہیجوبظاہر عوامی مفادکے خلاف محسوس ہوتے ہیں تویہ انسانی تاریخ کاایک پرانا المیہ ہے۔جنگوں،پابندیوں،اورپالیسیوں کے پیچھے کارفرماعوامل اکثرکثیرالجہتی ہوتے ہیں۔معاشی مفادات،جغرافیائی سیاست،داخلی دبا، اورنظریاتی وابستگیاں یہ سب مل کروہ تصویربناتے ہیں جوبظاہرسادہ نظرآتی ہے مگرحقیقت میں نہایت پیچیدہ ہوتی ہے۔جیساکہ کہاجاتا ہے دریاکی گہرائی کااندازہ کنارے سے نہیں ہوتا۔
یہ ہمارے عہدکاالمیہ بھی ہے اورامتیازبھی کہ ہم ایک ایسی دنیامیں سانس لے رہے ہیں جہاں معلومات کاسیلاب ہے مگریقین کی زمین بنجرہوتی جارہی ہے۔تاریخ کے اوراق جب بھی کھلتے ہیں،توان میں انسانی عظمت کے ساتھ ساتھ انسانی کمزوری کی داستانیں بھی ثبت ہوتی ہیں۔اقتدارکے ایوان جوبظاہرشیشے کے محل معلوم ہوتے ہیں،اکثراندرسے ایسے اسرارورموزسے بھرے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتاہے کیااقتدارخودایک امتحان ہے،یاایک فریب؟ہر روزکوئی نہ کوئی روایت ،کوئی دستاویز،یاکوئی ویڈیوسامنے آتی ہے جوبظاہراقتدارکے ایوانوں کے پردے چاک کرتی ہے مگرسوال یہ ہے کہ کیاہرداستان اورانکشاف روشنی ہے،یاکبھی کبھی وہ خود ایک نیاسایہ بھی پیداکرتی ہے؟یہ محض ایک داستان نہیں؛یہ ہمارے عہد کاآئینہ ہے،ایک ایساآئینہ جس میں چہرے بھی نظرآتے ہیں اورنقاب بھی۔سوال یہ نہیں کہ ہم کیادیکھ رہے ہیں؛سوال یہ ہے کہ ہم کیاماننے کوتیارہیں؟
کبھی کبھارایسے دعوے سامنے آتے ہیں جن میں کہاجاتاہے جیفری ایپسٹین فائلزکسی خفیہ حقیقت کا ثبوت ہیں۔بادی النظرمیں ذہن پرایک ہیبت طاری ہوتی ہے ،گویاسچائی کا پہاڑ ہمارے سامنے کھڑاہو۔یہ مقدار ود یک دلیل معلوم ہوتی ہے گویا حجم ہی صداقت کامترادف ہو۔اگریہ دعوی درست ہو،تویہ محض ایک فردکی لغزش کاریکارڈنہیں بلکہ ایک وسیع ترنظام کی علامت بن جاتاہے،کیونکہ بعض اوقات اعدادوشمارکاہجوم،استدلال کی کمزوری کوچھپانے کاہنربھی ہوتاہے مگریہاں سوال وہی ہے،کیا کثرتِ مواد، صداقت کی ضمانت ہے یا محض تاثرکی شدت؟
بعض اوقات بیانیے کی مہارت،ثبوت کی کثرت،صداقت کی ضمانت کی تحقیق بھی لازم ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ موادکتناہے،بلکہ یہ ہے کہ اس کی تصدیق کیسے ہوئی،اس کاماخذ کیا ہے،اوراس کی تشریح کس زاویے سے کی جارہی ہے۔کیایہ مواد آزادانہ طورپرتصدیق شدہ ہے؟کیااس کے ماخذشفاف ہیں؟اورکیا اس کی تعبیرغیرجانبدارہے؟جہاں ثبوت کاشورزیادہ ہو،وہاں سوال کی آوازاوربلندہونی چاہیے۔
یہ دعوے کہ دنیاکے بااثرحلقوں میں اخلاقی انحطاط اپنی انتہاکوپہنچ چکاہے،یقیناچونکادینے والے اورانسانیت کے ضمیرکوجھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں۔ایسے بیانیوں میں اکثراخلاقی انحطاط،طاقت کے ناجائزاستعمال،اورانسانی حقوق کی پامالی کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔یہ موضوعات بذاتِ خودنہایت سنجیدہ ہیں،اوردنیاکی تاریخ ان سے خالی نہیں۔ مگر ایک مہذب،ذمہ دارتجزیہ کارکیلئے ضروری ہے کہ وہ ثابت شدہ حقائق اورمبینہ دعوؤں کے درمیان واضح فرق قائم رکھے،تاکہ قاری جذباتی ہیجان کاشکارہونے کی بجائے فکری توازن برقراررکھ سکے اوروہ ہ دعوے کواس کے ماخذ،تحقیقاتی معیار،اورتصدیقی حیثیت کے ساتھ پرکھے ورنہ آگ کادھواں حقیقت اور افسانے کوایک ہی رنگ میں رنگ دیتاہے۔
لیکن یہاں ہمیں ایک نازک فرق کوسمجھناہوگا۔انفرادی جرائم اوراجتماعی سازشیں دوالگ دائرے ہیں۔اگرتاریخ میں ظلم ہواہے،توانصاف بھی ہواہے؛اگراندھیرے ہیں،توروشنی کے چراغ بھی بجھے نہیں۔مگرایک بیانیہ جوہرواقعے کوایک ہی عظیم سازش کے دھاگے میں پروناچاہتاہے،وہ اکثرپیچیدہ حقیقت کوسادہ کہانی میں بدل دیتاہے۔
کیاجیفری ایپسٹن کی تین ملین دستاویزات جس میں2ہزارسے زائدویڈیوز،ایک لاکھ 80 ہزارسے زائد تصاویرکے پیچھے کوئی ناقابل فہم داستان چھپی ہوئی ہے؟آخرکوئی کیوں اپنے اس قدرہولناک جرائم کااتنامکمل اورمستقل ریکارڈ بنائے گا؟اس کاپیمانہ ہمیں جواب دیتاہے، یہ صرف ایک آدمی کی بدحالی کاریکارڈنہیں تھا،یہ عالمی اشرافیہ کی کرپشن کاذخیرہ تھا،فائلوں میں ارب پتیوں،غیرملکی معززین، شہزادیوں،ماہرین تعلیم،اعلیٰ سفارت کاروں اورجی ہاں،امریکاکے سابق اورموجودہ صدرکے نام بھی موجودہیں۔
ہم نے فحش ای میلز،جنسی طورپرواضح خطوط،مجرمانہ تصاویردیکھی ہیں لیکن یہ سمجھوتہ کرنے والے موادسے کہیں آگے ہے، ایپسٹین پراقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں جنسی غلامی،تشدد اورقتل سمیت بچوں کے خلاف جرائم کے ثبوت بھی موجود ہیں۔یہ تصورکہ طاقتورافرادایک دوسرے پررازکے ذریعے اثراندازہوتے ہیں،نیانہیں۔سردجنگ کے دورسے لے کر جدیدسفارت کاری تک،معلومات ہمیشہ ایک طاقت رہی ہے۔
توہم مرکزی سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ سب کیوں ریکارڈکیاگیا؟جیفری ایپسٹن کے چھوٹے جزیرے سینٹ جیمزپرچھپے ہوئے کیمرے ذاتی تسکین کیلئے نہیں تھے،وہ ایک ٹول تھے۔ایپسٹین فائدہ اٹھانے کی ایک لائبریری بنارہاتھا،اب یہ بڑے پیمانے پربتایاگیاہے کہ وہ ایک انٹیلی جنس اثاثہ تھا،اسرائیل کے موسادسے آرڈرلے رہاتھا۔مقصدواضح تھاکہ زمین کے طاقتورترین لوگوں کوجرائم کے جال میں پھنسایا جائے،جس کامقصدان سب کوایک غیرملکی قوم صہیونی اسرائیل کی مرضی کے مطابق جھکاناہے۔
یہ انکشاف کہ خفیہ کیمرے اورریکارڈنگ کسی وسیع تردباؤیااثرورسوخ کے نظام کاحصہ تھے،ایک ایساخیال ہے جوجدیدسیاسی تجزیے میں بارہاابھرتاہے۔تاریخ میں بھی ہمیں ایسے اشارے ملتے ہیں جہاں معلومات کوطاقت کے طورپراستعمال کیاگیاہے۔یہ تصورکہ راز، اقتدارکا خاموش سکہ ہیں،کسی تعارف کامحتاج نہیں۔سیاست کے ایوانوں میں جہاں مسکراہٹیں سفارت ہوتی ہیں وہیں پسِ پردہ معلومات کا تبادلہ ایک غیرمرئی قوت کے طورپرموجودرہتاہے۔طاقتورافرادایک دوسرے پررازکے ذریعے اثراندازہوتے ہیں،یہ حربہ نیانہیں۔سرد جنگ کے دورسے لے کرجدیدسفارت کاری تک،معلومات ہمیشہ ایک طاقت رہی ہے۔
مگریہاں ایک اہم سوال اٹھتاہے،کیاہرراز،غلامی کاسبب بنتاہے؟یابعض اوقات یہ محض انسانی کمزوری کاعکس ہوتاہے،نہ کہ کسی منظم عالمی جال کاثبوت؟جیساکہ کہاجاتا ہے،ہر سرگوشی سازش نہیں ہوتی،اورہرسایہ دیوارنہیں ہوتاجیساکہ’’جنگ کی ہنگامہ خیزی میں سچ اس قدرنایاب اورقیمتی ہوجاتاہے کہ اس کی نگہبانی کیلئے جھوٹ کے محافظ کھڑے کرنے پڑتے ہیں،سچ بہت قیمتی ہوتاہے مگریہ ہمیشہ وضاحت کامحتاج رہتاہے‘‘۔حقیقت اوربیانیہ اکثرایک دوسرے میں گڈمڈہو جاتے ہیں۔(جاری ہے)