حساس اداروں میں سیاسی سیل اصغر خان کیس کے فیصلہ کے بعد ختم کر دئیے تھے:ایڈیشنل اٹارنی جنرل‘اس کا مطلب ہے حساس اداروں میں سیاسی سیل تھے:جسٹس مسرت ہلالی
بانی پی ٹی آئی کی 9مئی واقعہ کی جوڈیشل تحقیقات کیلئے درخواست منظور، پھرسوچ لیں! نوٹس جاری کیا تو بانی پی ٹی آئی کو پیش کرنا پڑے گا:عدالت کے ریمارکس
اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کے کیس میں زیرحراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ زیر حراست افراد کی کم از کم جیلوں میں ملاقات تو کرائی جاسکتی ہے،اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ ملاقات سے متعلق اٹارنی جنرل یقین دہانی کراچکے ہیں۔عدالت نے لطیف کھوسہ کی جانب سے زیرحراست افراد کو عام جیلوں میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد کردی‘ آئینی بینچ نے وزارت دفاع سے حساس اداروں میں سیاسی سیل ختم کرنے کی رپورٹ طلب کرلی، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ہدایت کی ہے ایف آئی اے عدالت کو مطمئن کرے کہ عدالتی فیصلہ پر عمل ہو چکا ہے۔سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے اصغرخان کیس کی سماعت کی، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حساس اداروں میں سیاسی سیل کے خاتمے کے حوالے سے وزارت دفاع کا جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا سیاسی سیل تو حساس اداروں میں اصغر خان کیس فیصلہ کے بعد ختم کر دئیے تھے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا اس کا مطلب ہے حساس اداروں میں سیاسی سیل تھے؟۔وکیل سلمان اکرام راجہ نے کہاکہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حساس اداروں میں سیاسی سیل تھا‘ آئینی بنچ نے بانی پی ٹی آئی کی 9مئی کے جوڈیشل تحقیقات کی درخواست باضابطہ سماعت کیلئے منظورکرلی اور رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کردیئے،عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگا کردوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے حامد خان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا حکومت اس کیس کو چلانا چاہتی ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ جی حکومت سنجیدگی سے درخواست کی پیروی کریگی،25مئی کے لانگ مارچ میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ اگر نوٹس کیا تو بانی پی ٹی آئی کو یہاں پیش بھی کرنا پڑے گا، جسٹس امین الدین نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مشورہ دیا کہ اس حوالے سے ہدایات لے لیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کیوں جذباتی ہو رہے ہیں؟عدالت آپ کو راستہ دکھا رہی ہے،سلمان اکرم راجا نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب جمع کرادیا ہے،عدالت کا زبانی حکم بانی پی ٹی آئی تک نہیں پہنچ سکا تھا،موبائل سروس کی بندش کے باعث وکلا کا رابطہ بھی نہ ہو سکا، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا بانی پی ٹی آئی کو نوٹس ہواتھا؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جی نوٹس موصول ہونے پر ہی جواب جمع کرایا ہے،توہین عدالت کا نوٹس نہیں تھا صرف جنرل نوٹس ہواتھا،سپریم کورٹ کے 7رکنی آئینی بنچ نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔