سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے:جسٹس جمال مندوخیل‘اس کیلئے درخواست دائر کردی تھی:ایڈیشنل اٹارنی‘اب شاید زیادہ ریٹ ملے:جسٹس امین الدین
آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا‘یہ کیس تو ایسا لگتا ہے جیسے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹس کئے: جسٹس مسرت ہلالی کے ریمارکس
اسلام آباد( آ ئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری کا حکم واپس لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔دوران سماعت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنل بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، حکومت کی طرف سے پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع کیا تھا لیکن نجکاری کے عمل کی وجہ سے نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نجکاری کا عمل کمیشن دوبارہ کرنے جا رہا ہے، پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی بھی ختم ہوگئی ہے۔آئینی بینچ کے سرابراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ نجکاری کے عمل میں اب شاید ریٹ زیادہ ملے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نجکاری کا عمل کرکے حکومت سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی، سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ نجکاری عدالت کو اعتماد میں لیکر کی جائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نجکاری پر اعتماد میں لینے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی تھی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے نجکاری اچھے طریقے سے کریں۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ 9 دسمبر کو درخواست پر سماعت کرے گا۔آئینی بینچ نے وفاقی محتسب کی طرف سے سابق جج لاہور ہائیکورٹ جن جسٹس منصور علی شاہ کے خلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی محتسب کی طرف سے جسٹس منصور علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا اور نوٹس اس وقت جاری کیا گیا تھا جب جسٹس منصور علی شاہ لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ وفاقی محتسب نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے اور وفاقی محتسب نے اپنی متفرق درخواست بھی واپس لے لی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس تو ایسا لگتا ہے جیسے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹسز کیے۔بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بیچ نے توہین عدالت کا نوٹس اور معاملے پر لیا گیا از خود نوٹس دونوں نمٹا دئیے۔