عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ جاری

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ جاری

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو ایک ہفتے سے زیادہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں، جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے امکانات کمزور ہو گئے ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔برینٹ خام تیل کے ستمبر کے سودے 87.86 ڈالر فی بیرل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 82.38 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے، حالانکہ پیر کو قیمتیں 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے ایران سے معاوضے کا مطالبہ کیا، جس میں جنگ، حملوں اور ہلاک ہونے والوں کا ذکر شامل ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا مطالبہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ایرانی سرنگوں سے اہم آبی گزرگاہ کو صاف کر دیا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جازان ریفائنری کو دوبارہ شروع کرنے کی تاریخ مؤخر کر دی ہے، جو اب 30 اگست کو فعال ہونے کی توقع ہے، یہ فیصلہ حوثیوں کے حملوں کے بعد لیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں توانائی کی ترسیل کے خطرات بدستور بڑھ رہے ہیں، جس سے انشورنس اخراجات میں اضافہ اور جہازوں کے طویل راستوں کا استعمال جاری رہ سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی محدود رہنے کا خدشہ ہے۔بارکلیز کے مطابق، 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی برآمدات اوسطاً 30 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جو پچھلے ہفتے کے 44 لاکھ بیرل سے نمایاں کم ہے۔درایں اثنا، عراق نے ستمبر میں باسرا میڈیم خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت میں 2.50 ڈالر فی بیرل اضافہ کیا ہے، اور اسے عمان/دبئی کی اوسط قیمت کے مقابلے میں 4 ڈالر منفی مقرر کیا گیا ہے۔