پاکستان کے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی نے اپنے تفتیشی افسر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ویڈیوز میں ایسا کوئی مواد شامل نہیں جو بچوں کو نقصان پہنچائے یا ان پر منفی اثرات مرتب کرے۔
ڈکی بھائی کا شمار ان یوٹیوبرز میں ہوتا ہے جنہوں نے اسٹریمنگ، روسٹنگ اور فیملی وی لاگز کے ذریعے اپنی شناخت بنائی ہے۔ انہیں بدنامِ زمانہ بیٹنگ ایپس کیس میں 3 ماہ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا، جہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا گیا۔ قانونی جنگ، میڈیا ٹرائل اور پھر ضمانت کے بعد ان کے تفتیشی افسران کو معطل بھی کیا گیا۔حال ہی میں ایک انٹرویو میں، ایک سوال کے جواب میں، ڈکی بھائی نے ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو سمجھتے ہیں کہ یوٹیوبرز بچوں کی تربیت پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف بے بنیاد ہے اور ان بچوں کے والدین کہاں ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ یوٹیوبرز کی وجہ سے بچے متاثر ہو رہے ہیں؟
ڈکی بھائی نے واضح کیا کہ ان کی ویڈیوز ہمیشہ صاف ستھری ہوتی ہیں اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ انہوں نے اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ نگرانی کا نظام رکھا اور اپنی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج کل والدین اپنی ذمہ داری کیوں نہیں نبھا رہے اور بچوں کے متاثر ہونے کا الزام یوٹیوبرز پر کیوں عائد کیا جا رہا ہے۔