ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں پایا گیا،موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی :پولیس ذرائع
لاہور(کرائم رپورٹر ) لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ، پولیس ذرائع کے مطابق، حکام کو دونوں خواتین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہو گئی ہے، جس میں ان کی موت کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں پایا گیا، اور دونوں خواتین کی موت مبینہ طور پر ہارٹ اٹیک یعنی دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔یاد رہے کہ ان نند بھابھی کو چار اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور اسی روز پولیس تھانے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔چار اگست کو درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو خواتین، جن کی شناخت بعد میں آمنہ اور انمول کے نام سے ہوئی، گلی میں بھیک مانگتے ہوئے مدعی مقدمہ کے گھر آئیں۔ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے دعوی کیا تھا کہ دو خواتین جو کہ گلی میں بھیک مانگ رہی تھیں، ہمارے گھر میں داخل ہو گئیں اور پانی مانگا۔ میری بہن نے ان کو پانی دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم دم بھی کرتی ہیں۔پولیس کے مطابق، اِس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 379، جو چوری پر لگائی جاتی ہے، اور 420، جو دھوکہ دہی و فراڈ کے الزامات پر لگائی جاتی ہے، شامل کی گئیں۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ دونوں خواتین نے دھوکہ دہی سے میری بہن کی سونے کی بالیاں اور پانچ ہزار روپے ہتھیا لیے، اور اسی دوران جب میں گھر پہنچا تو ان دونوں خواتین نے سونے کی بالیاں تو واپس کر دیں، لیکن پیسے واپس نہیں کر رہی تھیں۔ انہوں نے محلے میں واویلا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے۔مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے بعد، ہم نے ریسکیو 15 پر کال کی تو پولیس پہنچ گئی۔ ہم نے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کر دیا۔بعد ازاں، پولیس حراست میں مبینہ طور پر دونوں خواتین کی موت واقع ہونے کی اطلاع دی گئی۔