جج تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس ،آج جواب طلب صدر سے مذاکرات کا ٹاسک سپیکر قومی اسمبلی کو دیدیا

وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ ایسے لگتا ہے  حکومت کو  اس معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں کیا ہو رہا ہے، ہم نے سوچا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا‘ سمری کس سٹیج پر ہے؟
آپ کو کچھ معلوم ہے؟ اعلی عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کیساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن تھی جوڈیشل کمیشن نے منظوری دی تھی وہ بھی رک چکی ‘ اس طرح سمری کو رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا:جسٹس ارباب محمد طاہر
وزیر قانون کی سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات، ججوں کی  تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے فیصلے اور بعد کی صورتحال پر مشاورت‘ججز کا معاملہ انشا اللہ  جلد حل ہو جائے گا، سب مل جل کر مسئلے کا حل تلاش کر لیں گے:قانونی مشیر عرفان قادر 
اسلام آباد(آئی این پی )اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری نہ ہونے کے تنازع پر صدر اور وزیراعظم کو سیکرٹریز کے ذریعے  آج  کیلئے نوٹس جاری کر دیئے۔صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سمری منظوری نہ ہونے کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کئے گئے، عدالت نے وزارت قانون کو بھی    آج  کیلئے نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے  منگل تک جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سمری کس اسٹیج پر رکی ہوئی ہے؟۔درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے زائد آصف چودھری نے کیس کی پیروی کی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا  وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ آپ کی کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسے لگتا ہے وفاقی حکومت کو اس متعلق کوئی دلچسپی نہیں کیا ہو رہا ہے، ہم نے سوچا وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا  سمری کس سٹیج پر ہے؟ آپ کو کچھ معلوم ہے؟ اعلی عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن تھی جوڈیشل کمیشن نے منظوری دی تھی وہ بھی رک چکی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح سمری کو رکھ کر بیٹھا تو نہیں جا سکتا، پہلے تو 15 دن نہیں ہوئے تھے اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔وکیل زاہد آصف  چودھری نے دلائل دیئے  آئین بڑا واضح ہے جب وقت گزر جائے تو کیا ہوگا، صدر اس طرح سمری کو رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ صدر اب تو سمری مسترد بھی نہیں کر سکتے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ صدر کے اختیار کا معاملہ بعد میں دیکھیں گے ابھی وفاقی حکومت تو بتائے اس نے 15 دن گزارنے کے بعد کیا کیا ہے؟ ہمارے اسلام آباد ہائیکورٹ کے نئے تعینات ہونے والے ججز کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔عدالت نے وفاقی حکومت سے آج  تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔دریں اثناء وفاقی حکومت نے  ججز کی سمری پر دستخط نہ کرنے کے معاملے پر  صدر مملکت سے مذاکرات کا ٹاسک اسپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کر دیا۔وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، ملاقات میں صدر مملکت کے قانونی مشیر عرفان قادر اور میئر کراچی مرتضی وہاب بھی موجود تھے۔ملاقات میں ججز تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے فیصلے اور بعد کی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے اور قانونی پہلوئوں سے آگاہ کیا۔صدر مملکت کے قانونی مشیر عرفان قادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کا معاملہ ان شا اللہ جلد حل ہو جائے گا، سب مل جل کر مسئلے کا حل تلاش کر لیں گے۔