یومِ آزادی---وطن کی مٹی گواہ رہنا

آپا منزہ جاوید 

چودہ اگست صرف کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں بلکہ ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس کے پیچھے ایک پوری قوم کی جدوجہد، بے شمار قربانیاں، ہجرتوں کے دکھ اور ایک آزاد وطن کا خواب موجود ہے۔ پاکستان ہمیں کسی آسان راستے سے نہیں ملا تھا۔ اس کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے اپنی زمینیں اور جائیدادیں قربان کیں، اپنے پیاروں سے بچھڑے اور ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں کتنے ہی قافلے منزل تک پہنچنے سے پہلے لٹ گئے کتنے ہی گھر اجڑ گئے اور کتنی ہی ماؤں نے اپنے بیٹے بہنوں نے اپنے بھائی اور بچوں نے اپنے والدین کھوئے مگر ایک آزاد وطن کا خواب ان تمام دکھوں سے بڑا تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کی جلسے ہوئے تحریکیں چلیں آوازیں بلند ہوئیں اور لاکھوں لوگوں نے ایک مقصد کے لیے اپنا وقت اپنی صلاحیتیں اور اپنی زندگیاں وقف کیں۔ علامہ محمد اقبال نے جس خواب کی فکری بنیاد رکھی اسے عملی حقیقت بنانے کے لیے قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے مسلسل جدوجہد کی۔ یہ وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں تھا بلکہ ایک خواب تھا ایک امید تھی اور ایک ایسی منزل تھی جس کے لیے ایک قوم نے بے مثال قربانیاں دیں۔
ہم ہر سال چودہ اگست کو سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، گھروں، بازاروں اور گلیوں کو سجاتے ہیں ملی نغمے سنتے ہیں اور آزادی کی خوشی مناتے ہیں یہ خوشی ہماری قومی زندگی کا خوب صورت حصہ ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ لیکن شاید اس دن ہمیں چند لمحوں کے لیے رک کر یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ جن لوگوں نے ہمارے لیے پاکستان حاصل کیا تھا اگر وہ آج ہمارے درمیان ہوتے تو ہم سے کیا توقع کرتے
کیا وہ صرف یہ چاہتے کہ ہم ایک دن پرچم لہرا کر جشن منائیں یا یہ بھی چاہتے کہ ہم اپنے وطن کو مضبوط، خوش حال، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں
یقیناً آزادی کی حفاظت صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ آزادی کی حفاظت علم سے بھی ہوتی ہے، معیشت کی مضبوطی سے بھی صنعت و زراعت کی ترقی سے بھی قانون کی پاسداری سے بھی، دیانت داری سے بھی اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے سے بھی اگر ہم واقعی پاکستان کو ترقی کی معراج تک لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں سے آغاز کرنا ہوگا کیونکہ آج کے بچے ہی کل کے پاکستان کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے
پاکستان کی ترقی کا سب سے مضبوط راستہ تعلیم ہے تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہونی چاہیے اور اسے اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہیے کہ غریب والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کے خواب سے ہی دست بردار ہو جائیں۔ ہمیں ایسا نظام تعلیم چاہیے جہاں امیر اور غریب دونوں کے بچوں کو آگے بڑھنے کے مناسب مواقع مل سکیں۔ اسکول اور کالج صرف کتابیں پڑھانے کے مراکز نہ ہوں بلکہ زندگی کی تیاری کے ادارے بنیں۔
ہر بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا کسی کے حالات اجازت نہیں دیتے کسی کو جلد روزگار کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کی صلاحیت کسی اور میدان میں ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی بچہ آٹھ یا دس جماعتوں کے بعد مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا تو اسے بے روزگاری کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسے کوئی ایسا ہنر ضرور آنا چاہیے جس کے ذریعے وہ باعزت روزگار حاصل کر سکے۔
اسکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ عملی تربیت کی ورکشاپس ہونی چاہئیں جہاں بچوں کو بجلی کا کام، سلائی کڑھائی، کمپیوٹر، موبائل ٹیکنالوجی، مشینوں کی مرمت، لکڑی اور دھات کا کام، کھانا پکانے، گرافک ڈیزائننگ، زراعت اور دوسرے مفید ہنر سکھائے جائیں۔ بچے کتابی علم کے ساتھ اپنے ہاتھ سے کام کرنا بھی سیکھیں انہیں یہ احساس دیا جائے کہ کوئی جائز کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ اپنے ہنر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا عزت کی بات ہے۔
اسی طرح اسکولوں اور کالجوں میں مفت تعلیمی کلاسز کا انتظام بھی کیا جا سکتا ہے۔ جو طلبہ کسی مضمون میں اچھے ہوں انہیں ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے سے کمزور یا ضرورت مند بچوں کو مفت پڑھائیں۔ جو نوجوان کسی ہنر میں ماہر ہوں وہ اپنا ہنر دوسرے بچوں کو سکھائیں۔ اس طرح خدمت کا جذبہ بچپن ہی سے پروان چڑھے گا۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ میں کیسے کامیاب ہوں بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ میری کامیابی سے کسی دوسرے انسان کا راستہ کیسے آسان ہو سکتا ہے۔ اگر ایک بچہ دوسرے بچے کو پڑھاتا ہے تو وہ اسے صرف علم نہیں دیتا بلکہ خود بھی ہمدردی احساس ذمہ داری اور خدمت کا جذبہ سیکھتا ہے۔
اس عمل کو باقاعدہ تعلیمی سرگرمی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ تعطیلات میں بھی ایسے مفت تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں جہاں طالب علم رضاکارانہ طور پر ضرورت مند بچوں کو پڑھائیں اس طرح نوجوانوں کا فارغ وقت بھی مثبت سرگرمی میں صرف ہوگا اور ان میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ معاشرہ صرف لینے سے نہیں بلکہ دینے سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔
بچوں کی سرگرمیوں میں پودے لگانے اور زراعت کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ہر اسکول میں اگر ایک چھوٹا سا باغ یا سبز قطعہ ہو جہاں بچے بیج سے پودا تیار کرنے کا عملی تجربہ حاصل کریں تو یہ ان کی تعلیم کا ایک خوب صورت حصہ بن سکتا ہے انہیں مختلف اقسام کے بیج دیے جائیں اور بتایا جائے کہ بیج کو مٹی میں کس طرح بویا جاتا ہے اسے پانی اور روشنی کی کتنی ضرورت ہوتی ہے اور کس طرح ایک ننھا سا پودا وقت کے ساتھ بڑا ہوتا ہے
بچوں کو سبزیوں اور پھلوں کے چھوٹے چھوٹے پودے تیار کرنے اور فصل اگانے کا موقع دیا جائے۔ جب ایک بچہ اپنے ہاتھ سے بیج بوئے گا، اسے پانی دے گا، اس کے ننھے سے پودے کو بڑھتے دیکھے گا اور پھر اس پودے سے پھل یا سبزی حاصل کرے گا تو اسے صرف زراعت کا علم نہیں ہوگا بلکہ صبر محنت اور قدرت کی قدر کا احساس بھی پیدا ہوگا۔ اسے معلوم ہوگا کہ ہماری خوراک کے پیچھے کسان کی محنت، زمین، پانی اور قدرت کا ایک پورا نظام موجود ہے۔
ایسی سرگرمیوں سے بچے ماحول دوست بھی بنیں گے انہیں معلوم ہوگا کہ درخت صرف خوب صورتی کے لیے نہیں بلکہ ہماری زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ آج اگر ایک بچہ ایک پودا لگاتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے تو کل وہ اپنے محلے، شہر اور ملک کے ماحول کا زیادہ ذمہ دار شہری بن سکتا ہے۔
تعلیم اور ہنر کے ساتھ نوجوانوں کو عملی زندگی سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ جب اسکولوں اور کالجوں میں چھٹیاں ہوں تو مناسب نگرانی محفوظ ماحول اور قانونی ضابطوں کے تحت طالب علموں کو کارخانوں، فیکٹریوں، کاروباری اداروں، مالز اور دوسرے اداروں میں تربیتی کام یا جز وقتی روزگار کے مواقع ملنے چاہئیں۔ اس سے نوجوانوں کو کام کا تجربہ حاصل ہوگا محنت کی قدر معلوم ہوگی اور وہ اپنے وقت کو مثبت انداز میں استعمال کرنا سیکھیں گے
اسی طرح مناسب عمر کے طلبہ کے لیے ہفتے کے چند دن محدود گھنٹوں کی محفوظ اور باقاعدہ تربیتی ملازمت یا عملی کام کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ وقت کی قدر، محنت کی اہمیت اور اپنی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری بھی سیکھیں اور اپنے جائز جیب خرچ کا کچھ حصہ خود کما سکیں۔ یہ مواقع ان کی عمر اور تعلیم کے مطابق ہوں والدین کی رضامندی اور مناسب نگرانی کے ساتھ ہوں اور کسی صورت ان کی صحت، تعلیم یا تحفظ پر اثر نہ ڈالیں۔
نوجوانوں کے ہاتھ میں ہنر اور جائز روزگار ہوگا تو ان کے لیے بے مقصد فراغت اور بری صحبت کے راستے بھی محدود ہوں گے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو فارغ چھوڑ کر پھر ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔ انہیں مواقع دیں ان کی صلاحیتوں کو راستہ دیں اور انہیں یہ احساس دیں کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے۔
بے روزگاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ کارخانے اور فیکٹریاں قائم کرنا ہوں گی، صنعت کو فروغ دینا ہوگا اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے مواقع دیے جائیں اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں محنت کرنے والا شخص اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
ہمیں اپنی ملکی پیداوار بڑھانے کی طرف بھی سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔ روزمرہ استعمال کی بہت سی چیزیں جو ہم دوسرے ممالک سے منگواتے ہیں اگر وہ اپنے ملک میں تیار کی جا سکتی ہیں تو ہمیں ان کی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس سے صنعت بڑھے گی روزگار پیدا ہوگا، ہنر مند افراد کو کام ملے گا اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔
زراعت ہماری معیشت کا اہم حصہ ہے۔ کسان کو جدید طریقوں، بہتر بیج مناسب تربیت اور ضروری سہولتوں تک رسائی دی جائے تو ہماری پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسکول کی سطح پر بچوں کو زراعت سے جوڑنے کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ نئی نسل زمین اور خوراک کی اہمیت کو سمجھے اور مستقبل میں جدید زراعت کو ایک باوقار اور ترقی یافتہ شعبے کے طور پر آگے بڑھائے۔
بچوں کو اسکول کے زمانے ہی سے بنیادی دفاعی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت بھی دی جانی چاہیے اللہ نہ کرے کبھی زلزلہ آئے آگ لگ جائے سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت پیش آ جائے یا کسی ہنگامی صورت حال کا سامنا ہو تو بچے گھبراہٹ کے بجائے جان سکیں کہ خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا کرنا ہے۔
انہیں ابتدائی طبی امداد، آگ لگنے کی صورت میں محفوظ راستہ اختیار کرنے زلزلے یا دوسری قدرتی آفت کے دوران احتیاطی تدابیر، ہنگامی مدد طلب کرنے اور ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کرنے کی بنیادی تربیت دی جا سکتی ہے۔ جسمانی ورزش، نظم و ضبط، ابتدائی امداد اور ہنگامی حالات میں ذمہ دارانہ رویے کو بھی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔
یومِ آزادی کی پریڈ کی تیاریوں اور مشقوں کا مشاہدہ کرنے کے مواقع بھی بچوں کو دیے جانے چاہئیں جب وہ اپنے جوانوں کو نظم و ضبط، محنت اور قومی پرچم کے احترام کے ساتھ پریڈ کی تیاری کرتے دیکھیں گے تو ان کے دلوں میں وطن سے محبت اور ملک کی حفاظت کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ انہیں بتایا جائے کہ سرحدوں کی حفاظت ہمارے بہادر سپاہیوں کی عظیم ذمہ داری ہے اور ملک کی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوتی ہر شہری اپنے اپنے میدان میں پاکستان کو مضبوط بنا کر اس کی حفاظت میں حصہ ڈالتا ہے۔
ایسے مواقع بچوں کے اندر نظم و ضبط، ذمہ داری، حوصلے اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں گے کسی بچے کے دل میں مستقبل میں فوج میں شامل ہو کر وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا شوق پیدا ہوگا تو کوئی ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد یا ماہرِ زراعت بن کر ملک کی خدمت کا راستہ اختیار کرے گا۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا خواب لے کر بڑا ہو۔
ایسی تربیت کا مقصد بچوں کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں پْراعتماد، ذمہ دار اور مشکل وقت میں اپنے اور دوسروں کے کام آنے کے قابل بنانا ہے۔ ایک ایسی نسل جو علم بھی لرکھتی ہو، ہنر بھی جانتی ہو اپنے ماحول کی حفاظت بھی کرتی ہو دوسروں کی مدد بھی کرتی ہو اور مشکل وقت میں حوصلہ بھی نہ ہارے، وہی مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اس پورے تعلیمی اور عملی سفر کو یومِ آزادی سے جوڑنے کے لیے ہر سال اگست میں اسکولوں اور کالجوں میں ایک ایسی تقریب منعقد کی جا سکتی ہے جہاں بچے پورے سال کی اپنی کارکردگی پیش کریں۔ جس بچے نے کوئی نئی چیز بنائی ہو کوئی ہنر سیکھا ہو، کوئی سائنسی تجربہ کیا ہو کوئی پودا تیار کیا ہو کوئی سبزی یا فصل اگائی ہو کسی ضرورت مند بچے کو مفت پڑھایا ہو یا کسی مفید کام میں حصہ لیا ہو، وہ اسے دوسروں کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ اس نے اپنے وطن کی ترقی میں اپنا چھوٹا سا حصہ کیسے ڈالا۔
اس موقع پر بچوں کی بنائی ہوئی اشیا، سائنسی نمونے، ہنر کے کام، پودے، زرعی پیداوار اور دوسرے مفید منصوبوں کی نمائش بھی کی جائے۔ بچوں کو صرف انعامات دینے کے بجائے ان سے یہ سوال کیا جائے کہ اس پورے سال میں انہوں نے اپنے لیے کیا سیکھا اور اپنے ملک کے لیے کیا کیا۔
سوچیے، اگر ہر سال چودہ اگست کے موقع پر لاکھوں بچے اپنی ایک سال کی محنت اپنے سامنے رکھیں اور کہیں کہ میں نے یہ ہنر سیکھا، یہ چیز بنائی یہ پودا لگایا یہ بچہ پڑھایا یہ نئی چیز دریافت کرنے کی کوشش کی اور اپنی صلاحیت کا ایک حصہ پاکستان کے نام کیا تو یومِ آزادی کا مفہوم ہماری نئی نسل کے لیے کتنا گہرا ہو جائے گا۔
پھر بچے صرف یہ نہیں کہیں گے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے بلکہ وہ یہ بھی کہہ سکیں گے کہ پاکستان کی تعمیر میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ ان کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی چیز ان کے لگائے ہوئے ایک پودے کسی ضرورت مند بچے کو دی ہوئی تعلیم اور ان کی سیکھی ہوئی ایک نئی مہارت میں وطن کے مستقبل کا ایک چھوٹا سا حصہ موجود ہوگا۔
یہ تقریب دراصل بچوں کے اندر ایک خوب صورت احساس پیدا کرے گی کہ وطن سے محبت صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔ ہر سال اگست میں وہ اپنے آپ سے بھی پوچھ سکیں گے کہ گزشتہ سال میں نے کیا سیکھا اور اپنے ملک کے لیے کیا کیا؟ اور اگلے سال کے لیے اپنے لیے ایک نیا عزم لے کر آگے بڑھ سکیں گے۔
یوں یومِ آزادی صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں رہے گا بلکہ مستقبل کی تعمیر کا عہد بھی بن جائے گا۔
لیکن ملک صرف حکومت نہیں بناتی۔ ملک کے اصل معمار اس کے عوام ہوتے ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرے مگر استاد بھی اپنا کردار ادا کرے، والدین بھی، تاجر بھی، کسان بھی، مزدور بھی، ڈاکٹر بھی، انجینئر بھی اور طالب علم بھی۔ ہر شخص اگر اپنے حصے کا کام دیانت داری سے کرے تو قوم کی مجموعی طاقت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
ملک سے محبت بھی شاید اسی طرح مضبوط ہوتی ہے جیسے انسان کو اپنی محنت سے بنائی ہوئی کسی چیز سے محبت ہو جاتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی بھر کی کمائی سے ایک چھوٹا سا گھر بناتا ہے تو وہ گھر اس کے لیے صرف اینٹوں اور سیمنٹ کی عمارت نہیں رہتا بلکہ اس کی محنت اس کی یادیں اور اس کے خواب اس گھر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اسے سنوارنے کی کوشش بھی کرتا ہے کیونکہ اس میں اس کی اپنی محنت شامل ہوتی ہے۔
بالکل اسی طرح اگر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ہر شخص اپنے حصے کی محنت شامل کرے تو وطن سے اس کی محبت بھی پہلے سے کہیں زیادہ گہری اور مضبوط ہو جائے گی۔ استاد ایک بچے کو اچھی تعلیم دے کر اپنا حصہ ڈالے کسان زمین سے بہتر پیداوار حاصل کرکے اپنا حصہ ڈالے مزدور دیانت داری سے محنت کرے صنعت کار روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے ڈاکٹر اپنے مریض کا خلوص سے علاج کرے طالب علم علم اور ہنر حاصل کرکے مستقبل کے پاکستان کو مضبوط بنائے اور ہر شہری اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے تو یہ سب پاکستان کی تعمیر میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہوں گے۔
پھر پاکستان ہمارے لیے صرف ایک ملک نہیں رہے گا بلکہ ہماری اپنی محنتوں سے سنورنے والا وہ گھر بن جائے گا جس سے محبت خود بخود دل میں گہری ہوتی چلی جائے گی۔ جس طرح انسان اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محبت سے دیکھتا ہے اسی طرح جو قوم اپنے وطن کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتی ہے وہ اپنے وطن کی حفاظت اور ترقی کے لیے بھی زیادہ حساس ہو جاتی ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو حب الوطنی کا یہی عملی مفہوم سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وطن سے محبت صرف پرچم لہرانا نہیں بلکہ اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا بھی ہے۔ ہم جتنا پاکستان کے لیے کریں گے پاکستان اتنا ہی ہمیں اپنا محسوس ہوگا۔
ہاں، یومِ آزادی ضرور منائیں، خوب منائیں۔ اپنے گھروں کو سجائیں  سبز ہلالی پرچم لہرائیں، آزادی کی خوشی اپنے بچوں کے ساتھ بانٹیں اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کریں مگر اس جشن کو صرف ایک دن کی خوشی نہ بننے دیں۔ اپنی اپنی ترقی اور کوئی نئی کامیابی اپنے وطن کے نام کریں۔
کوئی نئی چیز دریافت کریں کوئی نیا ہنر سیکھیں کوئی پودا اگائیں کسی بچے کو پڑھائیں کسی بے روزگار کو روزگار دیں کوئی نیا کاروبار شروع کریں یا اپنے موجودہ کام کو پہلے سے زیادہ دیانت داری اور محنت سے کریں۔ اپنی ہر مثبت کامیابی کو پاکستان کی تعمیر سے جوڑ دیں۔
پھر یومِ آزادی آپ کے لیے صرف چودہ اگست نہیں رہے گا بلکہ سال کا ہر دن آپ کو اپنے وطن سے جوڑتا رہے گا۔ آپ جب بھی اپنے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھامیں گے تو اس میں صرف سبز اور سفید رنگ نہیں ہوں گے بلکہ آپ کی اپنی محنت بھی شامل ہوگی آپ کا عزم بھی شامل ہوگا آپ کے خواب بھی شامل ہوں گے اور آپ کی کامیابی بھی اس پرچم کے ساتھ لہرا رہی ہوگی۔
تب آپ اپنے دل میں فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہاں میں نے بھی اپنے ملک کے لیے کچھ اچھا کیا ہے۔ میری محنت پاکستان کی ترقی میں شامل ہے میری کامیابی میرے وطن کی بلندی میں ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ میں نے اس ملک سے صرف لیا نہیں بلکہ اسے کچھ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔
اور پھر شاید ہم پورے یقین اور محبت سے کہیں گے:
وطن کی مٹی گواہ رہنا
وطن کی مٹی عظیم ہے
تو عظیم تر ہم بنا رہے ہیں۔