لیاقت بلوچ
27رمضان، 14اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی شب بارہ بجے، جب ریڈیو سے انگریزی میں ظہور آذر اور اردو میں مصطفیٰ ہمدانی نے اعلان کیا کہ ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے، پاکستان مبارک ہو!‘‘ تو ساری قوم خوشیوں اور جذبوں سے جھوم اٹھی۔ پھر مولانا زاہد قاسمی نے عظیم کامیابی کی مناسبت سے سورۃ الفتح کی پہلی چار آیات کی تلاوت اور ترجمہ کی سعادت حاصل کی۔ سورج طلوع ہونے پر پہلی یومِ آزادی کو 31 توپوں کی سلامی دی گئی۔ 27رمضان، 15اگست کو قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اْٹھایا۔ اگرچہ حلف برطانوی حکومت کی طرف سے ملا تھا لیکن قائداعظم نے خود اپنے ہاتھ سے اس میں کچھ ترامیم کی تھیں۔ قائداعظم پر برطانیہ کی وفاداری کے حلف کا الزام لگانے والوں کو علم ہونا چاہئے کہ قائداعظم کے حلف کے آخری الفاظ تھے ’’میں پاکستان کے بننے والے آئین کا وفادار رہوں گا‘‘۔
یومِ آزادی کی مناسبت سے ہر سال 14 اگست کو ملک کے اندر اور دْنیا بھر میں پھیلے بیرونِ ملک پاکستانی یہ دن پورے قومی جذبے، جوش و خروش، شکرانے اور تجدیدِ عہد کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ دن ہمارے اسلاف کی عظیم، لازوال قربانیوں اور طویل جدوجہدِ آزادی کی یاد دِلاتا ہے۔ 14 اگست کو دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے۔ اہم سرکاری عمارتوں اور ملک بھر میں گھروں، بازاروں، گلیوں کو سبزہلالی پرچم سے سجایا اور چراغاں کیا جاتا ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر ملک بھر میں خصوصی شجرکاری مہمات کا آغاز کیا جاتا ہے تاکہ ملک کو سرسبز و شاداب بنایا جاسکے۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں سمیت عوامی سطح پر خصوصی پروگرامات، پرچم کشائی کی تقاریب اور ملی نغمے پیش کیے جاتے ہیں۔ بچے، بزرگ، جوان اِن تقاریب میں شرکت کرکے وطنِ عزیز سے اپنی والہانہ محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔
آزادوطن کو حاصل کرنے کے لئے مسلمانان برصغیر نے بے شمار قربانیاں دیں، عصمتیں لٹ گئیں، سہاگ اجڑ گئے، ماؤں سے لپٹے ننھے معصوم بچے نوکِ سناں پر اچھالے گئے، جوانوں کے سینے برچھیوں سے چھلنی کئے گئے، عزت و وقار کے حامل بزرگوں کو بھی تہہ تیغ کر دیا گیا، مال و متاع چھن گیا، گھر ویران ہو گئے، بستیاں تباہ و برباد کر دی گئیں۔ وحشت و بر بریت کا ایسا خونی کھیل کھیلا گیاکہ کوئی بھی خاندان محفو ظ نہ رہا۔ کون سا ایسا ظلم و ستم ہے جو برصغیر کے مسلمانوں پر نہ ڈھا یا گیا ہو، مگر آفرین ہے آزادی کے ان متوالوں پر کہ ان کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔ بلاشبہ آگ و خون کے اس دریا کو انہوں نے ڈوب کر پار کیا۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج ہم اپنے اسلاف کی انہی قربانیوں کی بدولت آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح? کی پْرخلوص قیادت، تحریکِ آزادی کے اکابرین اور قائد کے جانثار ساتھیوں کی انتھک محنت اور بر صغیر کے مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی بدولت پاکستان معرض وجود میں آیا۔ قیامِ پاکستان کا مطالبہ اصولی طور پر دو قومی نظریے کی بنیاد پر کیا گیا اور یہ دو قومی نظریہ ہی تحریک آزادی کی بنیاد
تھا۔ آج ہم اپنی آزادی کی تحریک پر فخر کر سکتے ہیں کہ یہ تحریک طویل ہی نہیں، عظیم الشان اور ناقابل فراموش قربانیوں سے بھرپور بھی ہے۔ علامہ اقبال کے افکار و نظریات اور بابائے قوم محمد علی جناح کے فرمودات سے ہمیں رہنمائی ملی۔
الحمدْ للہ! آج ایک آزاد اور خودمختار قوم کی حیثیت سے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آزادی کی نعمت عطا ہونے پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر کلمہ شکر بجالائیں اور اس عہد کی تجدید کریں کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات کی روشنی میں مملکت خدا داد کو جدید اسلامی فلاحی جمہوری مملکت بنائیں گے۔ وطن عزیز کی بقاء ، تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے پوری قوم خاص طور پر نوجوانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اِس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اپنے ذاتی اور انفرادی مفادات کو ملکی اور اجتماعی مفادات پر قربان کر دینا ہی زندہ قوموں کا شیوہ ہوا کرتی ہے۔ پوری قوم کا یہ دینی، ملّی فرض ہے کہ اپنے گروہی، فروعی، فرقہ ورانہ، جماعتی،لسانی، علاقائی اور دیگر ہر طرح کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی تعمیر وترقی کے لئے متحد ہو جائے۔
تحریکِ پاکستان کے دوران برصغیر پاک و ہند کے ہر مسلمان کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری تھا: ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ پوری قوم اس یقین سے سرشار تھی کہ پاکستان بننے کے بعد یہاں اسلام کا بابرکت نظام نافذ ہوگا۔اسلامیانِ ہند کی جدوجہد آزادی کا مقصد ہی یہ تھا کہ ایک ایسا خطہ ارض انہیں نصیب ہو، جہاں وہ آزادانہ طریقے سے اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی بسر کرسکیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کے قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد کے ایسے متعدد بیانات موجود ہیں جن میں بڑی صراحت کیساتھ واضح طور پر بیان کر دیا گیا کہ پاکستان میں نظامِ حکومت صرف اور صرف دینِ اسلام کی روشنی میں وضع کیا جائے گا۔ قائداعظم نے 13جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔ بدقسمتی سے آج بعض سیکولر اور لادین عناصر قائداعظم کی 11اگست 1947ء والی تقریر کو بنیاد بناکر یہ منفی پراپیگنڈہ کرتے پھرتے ہیں کہ قائداعظم ایک سیکولر ریاست کے خواہاں تھے۔ ذیل کی سطور میں ہم اس تاریخی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔
قائداعظم کا تصورِ پاکستان
11 اگست 1947 کو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کراچی میں پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے بطور صدرِ اول خطاب کیا۔ اس تاریخی تقریر میں انہوں نے ریاست کے فرائض، قانون کی حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مذہبی آزادی کا واضح اصول پیش کیا۔ آپ کے خطاب کا متن حسبِ ذیل ہے:
’’آپ آزاد ہیں؛ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مساجد میں یا پاکستان کی اس سرزمین پر کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
ہم اس بنیادی اصول کے تحت آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں اور ہم سب برابر کے شہری ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ یاد نہیں رہے گا کہ یہاں کوئی ہندو ہے یا مسلمان [مظلوم یا ظالم]۔ ریاست کی نظر میں سب برابر ہوں گے۔‘‘
اس خطاب میں آپ نے ایک اسلامی ریاست کے بنیادی فریضے یعنی مذہبی آزادی کا اعلان فرمایا تھا، جو قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔ قائد اعظم کا یہ خطاب ان کی جمہوریت پسندی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ان کے زرّیں خیالات کا عکاس ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعض سیکولر، لادین عناصر اس خطاب سے یہ من پسند نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے، ایسے عناصر کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
تقسیم ہند کے ساتھ ہی ہندوستان میں ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا تھا، اس سے وہاں کے مسلمانوں کے دل میں خوف و دہشت کے ایسے جذبات ابھرے کہ انہوں نے اسی میں عافیت سمجھی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پاکستان میں آکر پناہ لیں۔ موجودہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے اْن لٹے پٹے نہتے قافلوں کے قتل و غارت گری کی بھی ایک الگ خونچکاں داستان ہے جو تاریخ کے اوراق میں محفوظ اور ہم میں سے بہت سے پاکستانیوں کی یادداشتوں کا حصہ ہے۔ آپ سوچئے کہ ایک ایسی مملکت جس کی عمر ابھی ایک دن بھی نہ ہوئی ہو، اس قسم کے لرزہ خیزحالات سے دوچار ہو، پھر اس کی کیفیت یہ ہو کہ اس کے پاس نہ اپنی فوج ہو، نہ اسلحہ، نہ سامان اور نہ پیسہ، تو اس کے سربراہ کے دل پر کیا نہ گزرتی ہو گی؟ اِس پر مستزاد یہ کہ بھارتی اخبارات نے یہاں کی غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف مظالم کی فرضی داستانیں بیان کرکے وہاں کے مسلمانوں کیخلاف انتقام کی آگ کو تیز سے تیز تر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس لئے نہایت ضروری تھا کہ یہاں غیر مسلم اقلیتوں کو پورا یقین دلایا جائے کہ وہ یہاں ہر طرح سے
محفوظ رہیں گی اور مذہب کی بنا پر ان سے کوئی ناروا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں قائداعظم? کو یہ تقریر کرنا پڑی۔ قائداعظم نے بذاتِ خود اس تقریر میں انہیں تسلی دی کہ مملکت کی نظر میں سیاسی لحاظ سے وہ پاکستان میں برابر کے شہری ہوں گے۔ 11اگست 1947ء کی تقریر سے قبل بھی متعدد مواقع پر قائداعظم کئی بار اقلیتوں کو یہ یقین دہانی کروا چکے تھے کہ نئی قائم ہونے والی مملکت میں ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔ 13جولائی‘ 1947ء کو بھی قائداعظم نے اقلیتوں کو یقین دلایا کہ ’’اس نئی مملکت میں انہیں اپنے مذہب، عقیدے، زندگی اور تمدن کا تحفظ حاصل ہوگا۔ وہ پاکستان کے مکمل شہری ہوں گے اور سلسلے میں کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔‘‘
قائداعظم کی یہ تقریر اْن کی زندگی کی آخری تقریر بھی نہیں تھی، انہوں نے اس کے بعد متعدد مواقع پر کی گئی تقاریر میں قیامِ پاکستان کے مقاصد اور یہاں پر رہنے والے ہر شہری کے حقوق و فرائض کے حوالے سے واضح پیغام دیا۔ 25 جنوری1948ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے اپنے خطاب میں فرمایا:’’میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا جودیدہ ودانستہ اور شرارت سے یہ پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے
تھے۔ میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں غیر مسلموں کو بھی کوئی خوف، ڈر نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام اور اس کے نظریات نے ہمیں جمہوریت کا سبق دے رکھا ہے۔ ہر شخص سے انصاف، رواداری اور مساوی برتاؤ اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ پھر کسی کو ایسی جمہوریت، مساوات اور آزادی سے خوف کیوں لاحق ہو جو انصاف، رواداری اور مساوی برتاؤ کے بلند ترین معیار پر قائم کی گئی ہو‘‘۔ بابائے قوم کی قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد کی گئی اِن تقاریر و بیانات سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظریئہ حیات کے اصولوں پر مبنی ریاستی اور سماجی ڈھانچے کی تشکیل چاہتے تھے، جوکہ برصغیر کے مسلمانوں کے دل کی آواز اور قیامِ پاکستان کی بنیاد تھی۔ مسلمانانِ برصغیر کے لئے محض ایک آزاد مملکت کا قیام ہی مقصود نہیں تھا، بلکہ اصل مقصد اْن کا آزادی کے ساتھ اپنے ضابطہ ء حیات، اپنی تمدّنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق زندگی بسر کر نا تھا۔ بابائے قوم نے اغیار کی پھیلائی ہوئی بدگمانیوں کو دور کرنے کے لئے بارہا اپنی تقاریر میں واضح کیا کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت کے سوا کسی دوسرے نظریے یا اِزم کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔
یکم فروری 1943ء کو قیام پاکستان سے بہت پہلے ہوسٹل پارلیمنٹ اسماعیل یوسف کالج، بمبئی میں خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم فرماتے ہیں:
’’پاکستان میں ریاست اسلامی اصو لوں کے مطابق چلائی جائے گی، اس کی ثقافت، سیاسی اور معاشی تشکیل اسلامی اصولوں پر مبنی ہو گی۔غیر مسلم اس امر سے خائف نہ ہوں کیوں کہ ان کے ساتھ مکمل عادلانہ رویہ رکھا جائے گا۔ ان کے ثقافتی، مذہبی، سیاسی، معاشی حقوق کا مکمل تحفظ ہو گا۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ انھیں موجودہ نام نہاد جمہوری پارلیمنٹری طرز حکومت سے زیادہ تحفظات حاصل ہوں گے۔‘‘
لاہور میں ہونے والی یونیورسٹی ریلی سے حصولِ آزادی کے بعد خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ہم نے اپنی منزل مقصود ’آزادی‘پالی ہے اور ایک آزاد خودمختار اور دنیا کی پانچویں بڑی مملکت قائم ہو چکی ہے۔ اس برعظیم میں رونما ہونے والے حالیہ اندوہناک واقعات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی قوم ابتلا اور ایثارکے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی… کچھ لوگوں کی غداری اور سازشوں سے اس برعظیم میں بدنظمی اور افراتفری کی قوتوں کو بے لگام چھوڑ دیا گیاجس کی وجہ سے لاکھوں اموات واقع ہوئیں۔بہت وسیع پیمانے پر املاک کی تباہی اور بربادی ہوئی اور لاکھوں انسانوں کو اپنے گھر بار اور اپنی محبوب اشیا سے جدا کر کے اذیت اور مصائب میں مبتلا کر دیا گیا۔ ہم ایک نہایت گہری اور خوب سوچی سمجھی سازش کا شکار ہوئے جس کا ارتکاب کرتے ہوئے دیانت داری، شجاعت اور وقار کے بنیادی اصولوں کا بھی مطلق لحاظ نہیں کیا گیا۔ ہم اس تائید غیبی کے لیے سراپا شکر گزار ہیں کہ اس نے طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں بہت حوصلہ اور ایمان کی قوت عطاکی۔ اگر ہم قرآن کریم سے ہدایت حاصل کرتے رہے تو حتمی فتح، میں پھر کہتا ہوں، ہماری ہو گی۔کام کی زیادتی سے، میں کہتا ہوں، گھبرایئے نہیں!
نئی اقوام کی تاریخ میں کئی مثالیں (ملتی ہیں)جنھوں نے محض عزم اور کردار کی قوت کے بل پر اپنی تعمیر کی۔آپ کی تخلیق ایک جوہرِ آب دار سے ہوئی ہے
اورآپ کسی سے کم نہیں ہیں۔اوروں کی طرح اور خود اپنے آبا و اجداد کی طرح آپ بھی کیوں کامیاب نہیں ہوں گے؟آپ کوصرف اپنے اندر مجاہدانہ جذبہ کو پروان چڑھانا ہو گا۔آپ ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ قابل، صلاحیت کے حامل کرداروں اور بلند حوصلہ اشخاص سے بھری پڑی ہے۔ اپنی روایات پر قائم رہیے اور اس میں عظمت کے ایک اور باب کا اضافہ کر دیجیے۔
۔۔۔٭٭٭۔۔۔