"ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیزہے ساقی"

ڈاکٹر ذکیہ  گلفام

خوش  نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ  جو اپنی مٹی کا حق ادا کرپاتے ہیں اور  اپنی معا شرتی روایات کو مد نظر رکھ کر  علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتیہیں اور خوش نصیب ہے وہ دھرتی  جس نے ایسے جیالوں کو جنما ہو۔
سیاسی اور مذہبی مباحث سے قطع نظر  میں چند ایک ایسی شخصیات کا ذکر خاص کرنا چاہوں گی جنہوں نینہایت کم وقت میں اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سینبھایا  بلکہ  نبھارہے ہیں۔
(ڈاکٹر اورنگزیب خان ایکٹنگ وی سی آف کلام بی بی انٹرنشنل وومن انسٹیٹوٹ بنوں)
ڈاکٹر اورنگزیب خان کی۲۰۰۶میں بنوں یونیورسٹی میں جاب ہوئی تھی      بطور اسسٹنٹ پروفیسر،بنوں یونیورسٹی کے کمیپوٹر دیپارٹمنٹ کیاسٹبلشمنٹ میں ان کی کاوش اور انتھک محنت قابل دید ہیں،اس شعبیکو نیٹ کی سہولت اور  ایچ ای سی سے فنڈ لے کر اس کے لیے وڈیو کانفرنس روم  اور ڈیجیٹل لائبریری جیسی خدمات انجام دیں ، ۲۰۰۸، میں ملائشیا گئے پی ایچ ڈی کی غرض سے،ملائشیا سے ۲۰۱۱ میں واپسی ہوئی اور بنوں یونیورسٹی میں بطور ڈائریکٹر آف آئی ٹی  کمپیوٹرسائنس ڈیپارٹمنٹ کے عہدے پر فائز ہوئے،۲۰۲۱میں  ڈیٹا سائنس کا سبجیکٹ متعارف کرایا ۲۰۲۳ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرام متعارف کرایا،مئی۲۰۲۴ میں بنوں یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر/ایکٹنگ وائس چانسلر کے عہدے پر فائض ہوئیاس کے بعد ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۴ کو کلام بی بی انٹرنشنل وومن انسٹیٹیوٹ بنوں کیایکٹنگ وائس چانسلر کا چارج سنبھالا دور حاضر میں ایکٹنگ وائس چانسلر کی حثیت سے اپنی ٹیم جن میں انجینئر تنویر الحق جو رجسٹرار کے عہدے پر فائض ہیںجو بنوں یونیورسٹی میں سنڈیکیٹ  کے رکن اور صدر شعبہ کے فرائض ادا کرے رہے تھیاس کے علاوہ   انجینئر ڈاکٹر ریحان علی خان شامل ہیں جوکہکنٹرولر آف ایگزامینیشن کے خدمات انجام دے رہے ہیں اور جو بنوں یونیورسٹی میں کئی  طرح سے خدمات انجام دے رہے تھے جس میں سابقہ ڈائرکٹر ایف اے ڈی ، سینٹ  کے رکن ، اے ایس آر  بی کے رکن، اکیڈمک کونسل کے رکن،فوکل پرسن پاکستانانجینئر نگ کونسل اور صدر شعبہ کے فرائض شامل ہیں۔لہذا  وائس چانسلر ڈاکٹر اورنگزیب خان اور ان کی ٹیم نے بہت مختصر وقت میں کئی  ایک شعبہ جات کی منظوری ایچ ای سی سے لے کر اس کے لییمیرٹ کی بنیاد پہ مختلف علاقہ جات سے تعلق رکھنے والی فی میل فیکلٹی کی تقرری کی،اس  کے بعد باڈیز میٹنگ  جس میں ایف این پی سی، بورد آف فیکلٹی ،بورد آف سٹڈی،اکیڈمک کونسل،اور سنڈیکیٹ کا انعقاد کیاگیا، ادارے کے لیے لائبریر بنائی گئی ،سٹوڈنٹس  کے لیے فرنیچر کا بندوبست کیا گیا،یاد رہیکلام بی بی انٹرنشنل وومن  انسٹیٹوٹ نہ صرف ایک فیڈرل چارٹڈ  تعلیمی ادارہ برائے خواتین ہے بلکہ یہ وہ ادارہ ہے جس کا خواب اس علاقے کی ہر بیٹی کے باپ نے دیکھا تھا لیکن اس کو عملی جامعہ پہنانے کی توفیق اللہ  نے ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم خان درانی صاحب کو دی۔یاد رہے کلام بی بی انٹرنشنل وومن  انسٹیٹوٹ بنوں جس کی بنیاد جون۲۰۲۳میں پڑی یہ پہلے ۲۰۱۹ تا ۲۰۲۳یونیورسٹی آف  سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کی وومن کیمپس کا درجہ رکھتی تھی۲۰۲۳ کو ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم خان درانی صاحب کی کاوشوں سے اپ گریڈ ہوکر  کلام بی بی انٹرنشنل وومن  انسٹیٹوٹ بنوں کے نام سے الگ  حیثیت  اختیار کرلی۔ 
کلام بی بی انٹرنشنل وومن  انسٹیٹوٹ بنوں ایسا ادارہ ہے جونہ صرفاس علاقے بلکہ گرد و نواح کی بچیوں کے روشن مستقبل کا ضامن ثابت ہوگا کیونکہ وہ دن دور نہیں کہ جب ہماری وہ بہنیں/بیٹیاں  بھی پڑھ سکیں گی جو قابلیت رکھنے کے باوجود بھی صرف اس لیے آگے نہ پڑھ پاتی کہ علاقے میں خواتین کے لیے الگ تعلیمی ادارہ  نہ تھا  لہذا     کلام بی بی انٹرنشنل وومن  انسٹیٹوٹ بنوں دیگر علاقہ جات کی خواتین کی تعلیم کے لیے معاون ثابت ہوگا۔
انشاء￿  اللہ