جنرل(ر)باجوہ کو ایکسٹینشن دینا بڑی غلطی تھی، قوم سے معافی مانگتے ہیں اسد قیصر

شہباز شریف خدا کو مانو! آپ نے عوام کی طاقت نہیں دیکھی، جب عوام بپھر جائے تو فرعونوں کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے:محمودخان اچکزئی 
 پاکستان نے معیشت کی تباہی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ، پاکستان نے 38 فیصد مہنگائی کبھی نہیں دیکھی تھی:محمد زبیر ‘مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے  جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی، باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کی سنگین غلطی پرقوم سے معافی مانگتے ہیں، ، ملک میں موجودہ نظام عملاًنہ آئینی ہے اور نہ قانونی ہے بلکہ اس وقت ملک میں عملاً مارشل لا لگایا ہوا ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماوں کی پریس کانفرنس کے دوران اسد قیصر نے کہا  آئندہ  کسی اس قسم کے فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود اچکزئی نے کہا کہ تحریک کسی کو برا بھلا کہے گی اور نہ اخلاق سے گری بات کرے گی، تحریک کو قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آئین کے تحفظ کی بات کی جائے گی، نواز شریف اور مریم نواز جب جیل گئے تو میں بھی ملاقات کے لیے گیا جبکہ دونوں سے جیل میں 20، 20 لوگ ملنے جاتے تھے اور موجودہ  سپیکر قومی اسمبلی بھی جیل میں ملنے جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک بہت خراب ہو چکا ہے، ضیا الحق اور مشرف میں پھر بھی کچھ شرافت ہوتی تھی، شہباز شریف خدا کو مانو آپ نے عوام کی طاقت نہیں دیکھی، جب عوام بپھر جائے تو فرعونوں کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم آئین کے تحفظ کے لیے عوام کو منظم کریں گے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں کہ عدلیہ کو آزاد کریں گے، میڈیا کو تنگ نہیں کریں گے اور ہم بھی اس معاہدے پر دستخط کریں گے، ورنہ ہم مجبور ہیں، گلیوں اور سڑکوں میں نکلیں گے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا کہ پاکستان نے معیشت کی تباہی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ، پاکستان نے 38 فیصد کی کبھی مہنگائی نہیں دیکھی تھی، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ہفتہ وار مہنگائی 50 فیصد تک جائے گی، اس وقت سوا 11 کروڑ عوام غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں اور ملک میں بے روزگاری 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔زبیر عمر نے کہا کہ نوجوانوں میں بے روزگاری 30 فیصد ہے جو تاریخ میں اتنی نہیں تھی، پی ٹی آئی دور میں 19 ٹریلین قرضوں میں اضافہ ہوا تھا اور اب صرف ساڑھے تین سالوں میں قرضوں میں 38 ٹریلین کا اضافہ ہوا ہے، کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ قرضے کہاں کہاں استعمال کیے ہیں