لاہور میں پی ٹی آئی ورکرز کنونشن پر چھاپہ، پولیس اور رہنماؤں میں تناؤ

لاہور میں پی ٹی آئی ورکرز کنونشن پر چھاپہ، پولیس اور رہنماؤں میں تناؤ

​اکتوبر 2023 میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ورکرز کنونشن پر پولیس نے چھاپہ مارا، جس کے نتیجے میں متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے باوجود پولیس کی کارروائی پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔پولیس نے کنونشن کے مقام اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے، جس کے دوران گھروں میں موجود خواتین اور بچوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے وکلاء اور سینئر رہنما سردار لطیف کھوسہ کی مداخلت کے بعد گرفتار کارکنان کو بحفاظت رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے پولیس کی کارروائی کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ ایک سزا یافتہ مجرم نواز شریف کو مکمل پروٹوکول دیا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ سے کنونشن کی اجازت حاصل کی گئی تھی، تاہم ڈپٹی کمشنر آفس کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی این او سی جاری نہیں کیا تھا۔یہ واقعہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا، جس پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے بھرپور احتجاج کیا اور اسے سیاسی انتقام کا حصہ قرار دیا۔​