امریکا اور ایران میں تناؤ خطرناک موڑ پر، ساتویں رات بھی امریکی حملے

امریکا اور ایران میں تناؤ خطرناک موڑ پر، ساتویں رات بھی امریکی حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ حملے امریکی صدر اور کمانڈر اِن چیف کی ہدایات پر کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی بحرِ ہند میں موجود ایک امریکی بحری جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع یا امریکی حکام کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو ایران اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔ادھر ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضاعی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران دفاعی حکمت عملی سے آگے بڑھتے ہوئے جارحانہ کارروائیوں کی طرف جا سکتا ہے، اور اگر چند روز تک حملے جاری رہے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ کئی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے پر زور دیا ہے۔