امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2026 تک غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت کارروائیوں میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی نے امریکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور عوامی سطح پر اس پالیسی کے خلاف شدید مخالفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے اربوں ڈالر کے نئے فنڈز کے ساتھ اس مہم کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کام کی جگہوں اور کاروباری مراکز پر چھاپوں کا سلسلہ تیز کرنے کی بھی منصوبہ بندی شامل ہے۔ اس سال کے دوران، وفاقی حکام نے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، جن کے دوران رہائشی علاقوں میں چھاپوں کے دوران وفاقی ایجنٹوں اور مقامی آبادی کے درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔اگرچہ ابھی تک حکام نے اہم معیشتی اداروں اور فیکٹریوں پر چھاپے مارنے سے گریز کیا ہے، کیونکہ ان اداروں میں غیرقانونی تارکینِ وطن کام کرتے ہیں، لیکن اب یہ حکمت عملی بدلتی نظر آ رہی ہے۔ کانگریس کی جانب سے جولائی میں منظور کردہ ایک بڑے پیکج کے تحت، امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور بارڈر پیٹرول کو 2029 تک 170 ارب ڈالرز کے اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جو ان اداروں کے موجودہ بجٹ سے بہت زیادہ ہے۔
اس توسیعی منصوبے کے تحت، ہزاروں نئے ایجنٹ بھرتی کرنے، نئے حراستی مراکز کھولنے، اور مقامی جیلوں سے تارکینِ وطن کی گرفتاری کے عمل کو تیز کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کے علاوہ، غیرقانونی طور پر مقیم افراد کا سراغ لگانے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ بھی شراکت داری کی جائے گی۔یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سیاسی محاذ پر ٹرمپ کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر میامی جیسے شہر میں جہاں تارکینِ وطن کی بڑی آبادی ہے، پہلی بار تین دہائیوں بعد ایک ڈیموکریٹک میئر، ایلین ہگنس، کا انتخاب اس عوامی ردعمل کا عکاس ہے جو صدر ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے خلاف جنم لے رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹرز اب ان جارحانہ اقدامات کو صرف امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق اور آئینی حدود کی خلاف ورزی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
اعتدال پسند ریپبلکن پولیٹیکل سٹریٹیجسٹ، مائیک میڈرڈ، کا کہنا ہے کہ محلوں میں نیم فوجی طرز کی کارروائیاں صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو رہی ہیں۔اعداد و شمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں: مارچ میں امیگریشن پالیسی پر صدر ٹرمپ کی مقبولیت 50 فیصد تھی، جو دسمبر کے وسط تک کم ہو کر 41 فیصد رہ گئی ہے۔ عوام میں اس بے چینی کی بڑی وجہ وفاقی ایجنٹوں کی جانب سے رہائشی علاقوں میں آنسو گیس کا استعمال اور امریکی شہریوں کو غلطی سے حراست میں لینے جیسے واقعات ہیں۔