سمیع اللہ ملک (دوسری قسط)
بہرکیف فرقت ِیارکے غم میں آنکھیں نم ،جذبات متلاطم،روح الحاح وزاری میں رقصاں،لب آہ وفغان میں لرزاں دیکھ کرروح کو دلاسہ دیا،بے شک وداع کی یہ دل فگارگھڑیاں اللہ کے چہیتوں پرشاق گزرنی چا ہیے،انہیں کوچہ جانان سے جدائی کاغم ماہی بے آب کی مانندتڑپاناچاہیے،ان کی ہچکیاں بندھنی چاہیے،انہیں سینہ کوبیاں کرنی چاہئے،کیاپتہ اب کبھی یہاں دوبارہ سربسجدہ ہونے کاشرف ملے گا،کیامعلوم اللہ اپنے گھرکاطواف کرنے کاکوئی نیابلاوابھیجے گا، کونسی ضمانت ہے کہ کعبتہ اللہ،حجراسود،رکن یمانی،ملتزم،درِکعبہ،مقامِ ابراہیم،زمزم،صفاومروہ اورمقد ساتِ مکہ کے دیدارکا قرعہ فال ہمارے نام دوبارہ نکلے گابھی۔یہ خیال آتے ہی یہاں پل پل غنیمت لگتاہے،لمحے صدیوں میں بدل جاتے ہیں اورایک مرتبہ پھررب ِکعبہ سے مانگنے،آہ وزاری کے ساتھ حاجت روائی،گناہوں سے بخشش اورعفوودرگزروالدین اوردوسرے مرحومین کیلئے گڑاگڑاکرمغفرت کی دعائیں،اپنوں اورغیروں کی بھلائی کیلئے دعائے خیر،طبیبِ ازلی سے ہرمریض کیلئے اورہرمرض سے شفایابی،قرضوں کی ادائیگی کیلئے غیبی مدد، بے روزگاری کی ذِلت سے نجات،عذابِ جہنم سے خلاصی،جنت کے انعامات و عطا،بیٹیوں کے موزوں بر،مناسب جوڑطلب اوران کے بہترنصیب،فتنہ ہائے زمانہ میں ایمان وامان کی عافیت،مسجداقصی کی فریاد،غزہ اورمقبوضہ کشمیرکے شہدا کی مناجات،ملت کی آبرومندی کی بھیک،ارضِ پاکستان کے ہرذرے کی خیر،پوری انسانیت کی بھلائی،باربارحرمین کی زیارت سے حصولِ فیوضات وبرکات کی اشک باردعاں کی درخواستیں اورالتجائیں پیش کرتے ہوئے ساراجسم کپکپارہاہوتاہے۔
دنیاوآخرت میں بہترمعا ملے کیلئے اپنی تردامنی پرندامت کے اشک بہاکروحدہ ولاشریک سے سر گوشی کرنے کاوقت آن پہنچتا ہے:اے ربِ ارض وسما!کعبہ مطہرہ تمہاراگھرانہ،
تیرے خلیل کانذرانہ،تیرے حبیبﷺکیلئے وجہ قرار،یہ تمہاری شانِ کریمی کہ تمام اہل ایمان بیت اللہ کے وارثین بنادئے ہیں،میں حقیروناکارہ،خطاونسیاں،گناہ وبرائی کامجموعہ لیکن ہوں توتیراہی بندہ،میری توبہ قبول کرلے،اب سے میرے ایمان وکردارکوایسالعل وگوہربنادے کہ بیت اللہ کے ورثا میں میرابھی نام جڑجائے،میں عمربھرکعبے کی طرف رخ کرکے جیوں،اسی کی جانب رخ کرکے مروں ۔اے رحیم ورحمن!اپنے اس گھرکومیرے قلب وجگرکے نہاں خانے میں ایسے بسادے کہ کبھی اس سے جدائی کاکھٹکالگے نہ دوری مسافت کی دیوارحائل رہے،میرے اعمال سے ہمیشہ غلافِ کعبہ کی زینتیں اورملتزم وسنگ ِاسودکی عظمتیں جھلکیں۔آمین یارب العالمین!
لگتاتھاکہ کعبہ شریف کے گردجسم نہیں روح بھی چکرلگارہی تھی،اللہ سے پیاراس قدرامڈرہاتھاکہ ساحلوں اورکناروں کے بندٹوٹ رہے تھے۔طواف سے فارغ ہوئے توملتزم کے سامنے اللہ کے حضوردست بدعاہوگیا،حجراسودکوآنکھوں آنکھوں میں چوما،یادآیاکہ رسولِ کائناتﷺنے جنت کے اس پتھرکوبوسہ دیتے ہوئے حضرت عمرؓسے فرمایاتھاکہ یہ جگہ آنسو بہانے کیلئے ہے۔یہاں جوبھی اپنی نافرمانیوں اورروگردانیوں پہ بلک بلک کرروئے،اس کے گناہوں کے داغ دھبے یکسردھل جائیں گے۔حجراسودسے گزرکر رکن یمانی کی زیارت سے حریم قلب آسودہ کیا،حطیم سے تھوڑاسالپٹ گئے،میزابِ رحمت پرنظریں مرکوزکیں،غلافِ کعبہ کی کشش وجاذبیت میں کھوگئے۔دعاومناجات سے فارغ ہوئے تو زمزم کے جام ِشریں سے روح کی پیاس بجھائی۔یہ پانی اللہ کاعطیہ اور حضرت ذبیح اللہ کاصدقہ ہے،اس کے گھونٹ گھونٹ میں پینے والے کیلئے علم ِنافع،رزق ِواسع اورشفائے امراض کی ضمانت پنہاں ہے۔
اذانِ مغرب ہوئی تودل میں ہوک سی اٹھی کہ یہ کعبہ مشرفہ میں فی الوقت آخری نمازہے،بس کچھ ہی پل بچے ہیں،کچھ گنی چنی سانسیں اس خلد بریں میں لیناباقی ہیں۔بیت اللہ کاصحن ِمبارک جہاں سعیدروح انسانوں کے اژدھام سے ہمہ وقت بھرارہتاہے،وہاں اللہ کے70ہزارفرشتوں کاہمیشہ ہجوم اکھٹاہوتاہے۔خودہی سوچئے برکت ورحمت کے اس منبع و مرکزاورسرکارِدوعالم ﷺ کے مولدو مسکن سے جب مفارقت کا لمحہ قریب آجائے تودل کاکیاحال ہوگا۔بہرحال نماز مغرب کے فرض سے فارغ ہوتے ہی ہم نے طواف ِ وداع کا فریضہ انجام دیا۔اللہ کالاکھ لاکھ شکرکہ ساتوں اشواط میں تھوڑاہی وقت صرف ہواکیونکہ کعبہ کے بالکل قریب ہی یہ سعادت پائی۔خوش قسمتی سے سنتیں اداکر نے کیلئے مقام ِابراہیم پر مصلیٰ ملا،سنتیں اداکیں،دعاکیلئے ہاتھ اٹھے ضرورمگریکایک روح کی زبان گنگ ہوگئی کہ کعبے سے رخصتی پرافسردہ خاطرتھا،جگرنوحہ کناں تھامگرمدینہ منورہ روانہ ہونے کی مسرت سے شادی مرگ ہونے کا اندیشہ بھی بڑھ رہاتھا۔ان کیفیات کی رومیں بہہ کراللہ سے کس منہ سے کہتاکہ الٰہی!اِدھرکاقیام بڑھادے یاجلدازجلد گنبدِخضراپہنچادے۔بے شک اللہ رحمن ورحیم کاہم پریہ خاص لطف وکرم تھاکہ اس ذاتِ اقدسﷺکے بقعہ نور،پناہ گاہِ مہاجرین اور شہرانصارکی خوشبوں سے مشام ِجان معطرومسحورہونے کازریں موقع ہمیں نصیب ہوا۔ خیرکعبہ پرپہلی نظرپڑتے وقت اورپھر رخصت لینے کی گھڑی پربصدجان ودل اللہ سے لبوں پردعامچلنے لگتی ہے:بارالہا!مجھے اورمیرے اہل وعیال کواپنے گھراور اپنے محبوبِ کبریا ﷺ کے شہرشریں میں باربارولگاتاربلانا۔دعاؤں کووردِلب کرتے ہوئے اورنیک خواہشات اورتمناں کانخلستان دل میں سجاتے ہوئے کعبہ شریف پرحسرت بھری نگاہیں مکرر،سہ کرر ڈالیں اوربوجھل قدموں سے مطاف چھوڑدیا،کئی بارپلٹ کر دیکھاتوایسے لگاجیسے کعبہ مہربان رخصت کرتے ہوئے کہہ رہاتھا:میری حیات بخش تجلیات وانوارات ایمانِ قوی، اعمالِ صالح، خوفِ خدا،جوابدہی آخرت کی نہ ختم ہونے والی عظیم پونجی ہیں،جوبھی اس پونجی سے توحیدوسنت کے بازارسے زندگی کاسودا سلف لائے،وہی لاریب زائرالحرمین کہلانے کے لائق ہے،دنیاکی بھلائی اورآخرت کے عزوشرف کابھی وہی حق دارہے۔
کتاب ِ ہستی کے سرورق پرجونام احمدﷺ رقم نہ ہوتا
تونقش ِہستی ابھرنہ سکتا،وجودِلوح وقلم نہ ہوتا
اب دل وجاں اورروح ایک عجیب سی خوشی سے سرشاراوربے چین ہے کہ آنکھیں بندکرکے کھولوں توسامنے گنبدِخضراہو،جس کیلئے آقائے نامدارﷺکے شہرکی طرف رخصت سفر شروع کیاتواچانک میرے آقاﷺکے فرامین یادآگئے کہ آپ نے فرمایا:تم میں سے جس شخص کومدینہ میں موت آسکتی ہو،اسے چاہیے کہ وہ یہ سعادت حاصل کر ے،چونکہ یہاں مرنے والوں کی گواہی میں دوں گا۔(سنن ابن ماجہ)
بہشت ِمدینہ کی عظمت وسطوت ناپنے کاکوئی پیمانہ ہی نہیں مگراس مقدس شہرکی برتری وبالادستی کاایک اہم اشارہ یہ بھی ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ فاروق دعاکیاکرتے:اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطاکراوراپنے رسول کے شہر میں موت عطاکر(صحیح بخاری)
اس پرشوق سفرکاپنچھی دل کی کتاب لئے بیٹھایہ سوچنے لگاکہ یہ دعامانگنے والی ہستی تاریخ اسلام کی ماتھے کاجھومرتھی،وہ جن کی آرااورمشوروں کی بارگاہ ِ الہیٰہ میں اتنی پذیرائی ہوتی کہ وحی بن کراللہ کے رسول پرنازل کی جاتی،وہ فاروق اعظم رضی ا للہ تعالی عنہ جس کی تعریفوں میں دوست تودوست دشمن بھی رطب اللسان ہیں۔یہ خاص دعامانگ کراس فنافی الرسول شخصیت نے ہمیں جینے میں ہی نہیں بلکہ مر نے میں بھی ہمسائیگی رسول اختیارکرنے کی آرزوسکھادی۔آپ بالمعنی فرماتے ہیں اپنے نصیبے سے جوبہشت مدینہ میں داعی اجل کولبیک کہے،سمجھواس کابیڑہ پارہوگیا۔امیرالمومنین کی یہ دعااللہ کی بارگاہ میں یک بارقبول ہوگئی!
حبِ نبیﷺکے نادرنمونے ہمیں صحابہ کی پاک زندگیوں میں کہاں نہیں ملتے؟ایک برگزیدہ صحابی حضرت ثوبانؓ کے بارے میں آتاہے کہ آپ اکثر بیماررہنے لگے،طبیعت کی ناسازی روزبروزبڑھتی چلی گئی۔صحابہ کباربیمارپرسی کرتے تویہ اپنے دل کا حال ان قدسی صفات پربھی ظاہرنہ ک تے،شکریہ کرکے بات ٹال دیتے۔آخرپیغمبردوجہاںﷺنے پوچھاتوصاف صاف عرض کی:یارسول اللہﷺ!ایک خیال دل میں آتے ہی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔سروردوعالم ﷺنے پوچھا:کیاخیال آتاہے؟ عرض کی:اے اللہ کے رسول ﷺ!اب زندگی میں جب تک آپﷺکادیدارنہ ہوچین نہیں آتا۔سوچتاہوں مرنے کے بعدکیاہوگا؟اگراللہ نے اپنے فضل عنایت سے مجھے جنت عطابھی کی تب بھی معلوم نہیں آپﷺکہاں ہوں گے اورمیں آپﷺکے روئے نازنین کی زیارت کئے بغیرجنت میں کیوںکرتسکین وطمانیت پاؤں گا؟معلوم ہی نہیں وہاں آپﷺکے چہرہ انورکادیدارکرنے کیلئے مجھے کیاکیا پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔حضورﷺنے فرمایا:ثوبان!تم جس سے محبت کرتے ہواسی کے ساتھ رہوگے۔پھرآپﷺنے قرآن کریم کی وہ آیت تلاوت فرمائی جواسی موقع پرعرش ِمعلی سے نازل ہوئی:جواللہ اوراس کے رسولﷺکی اطاعت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہی رہیں گے جنہیں اللہ تعالی نے نعمتوں سے نوازاہوگا ۔(جاری ہے)