انتخابات میں ریپبلکنز کو نقصان ہوا تو ٹرمپ ایران پر حملہ کرسکتے ہیں، امریکی عہدیدار کا بڑا دعویٰ

انتخابات میں ریپبلکنز کو نقصان ہوا تو ٹرمپ ایران پر حملہ کرسکتے ہیں، امریکی عہدیدار کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دینے کا امکان اس صورت میں بڑھ سکتا ہے جب آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔

 امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے باعث صدر ٹرمپ خود کو سیاسی طور پر کمزور یا شرمندہ محسوس کریں تو وہ کوئی بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پیغام کے ذریعے ایرانی قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کا بہترین موقع موجودہ وقت ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے فیصلوں کا انحصار انتخابی نتائج پر نہیں ہوگا۔

قطر کی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوششیں

دوسری جانب قطر امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایکسیوس کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعے کے روز تہران میں 12 گھنٹے سے زائد بات چیت کی اور اس دوران وائٹ ہاؤس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔رپورٹ میں مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مزید ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

امریکا اور ایران کے مطالبات میں اختلاف

مذاکرات میں بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو شامل کیا جائے، جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ان مطالبات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کو سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں بھی ایران سے متعلق اختلافات

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ایران سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مبینہ طور پر ایران کے ساتھ نئے معاہدے کے امکانات کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور مزید فوجی دباؤ کے حامی ہیں۔اس کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر مذاکرات کی بحالی اور سفارتی حل کی حمایت کر رہے ہیں۔