امریکا امن کا خواہاں ہے تو مداخلت بند کرے، ترجمان اسماعیل بقائی

امریکا امن کا خواہاں ہے تو مداخلت بند کرے، ترجمان اسماعیل بقائی

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے یمن کی انصاراللہ کے حوالے سے عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے واشنگٹن کو اپنی عدم استحکام پیدا کرنے والی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انصاراللہ یمن کی ایک خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے، وہ نہ کسی سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی کسی ملک کی پراکسی ہے۔اسماعیل بقائی کے مطابق خطے میں بدامنی کی بنیادی وجہ امریکی فوجی مداخلت اور بالادستانہ پالیسیاں ہیں۔ اگر امریکا واقعی امن کا خواہاں ہے تو اسے ایسی مداخلت سے گریز کرنا ہوگا جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھاتی ہے۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ بمباری اور بیرونی دباؤ کے ذریعے یمن میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا، مسئلے کا حل تمام فریقوں کے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر بامعنی مذاکرات میں ہے۔ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجے جانے پر بھی اسماعیل بقائی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غیرمنصفانہ اور بلاجواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ضوابط کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

انہوں نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے طرزِعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادارے میں انصاف پسندی موجود ہوتی تو اس کے اقدامات امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کی خدمت کے بجائے غیرجانبدارانہ ہوتے۔اسماعیل بقائی نے جاپان کی جانب سے ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان خود جوہری ہتھیاروں کا نشانہ بننے والا ملک رہا ہے، اس کے باوجود ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کرنا متضاد طرزِعمل ہے۔ان کے مطابق اس قسم کا رویہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے، جبکہ قرارداد کے نتیجے میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی سیاست مزید واضح ہوگئی ہے۔