ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران ہر ممکن صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم تہران مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر مختلف امکانات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی گنجائش بھی موجود ہے۔
امریکا اور اسرائیل پر فوجی کارروائیوں کا الزام
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دونوں ممالک خطے کے مختلف حصوں کو فوجی جارحیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔اسماعیل بقائی کے مطابق اس طرزِ عمل سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور خطے کی صورت حال مزید پیچیدہ بن رہی ہے۔ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں ایران مختلف امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان میں کسی مخصوص فوجی اقدام یا آئندہ کے لائحہ عمل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ایران کا سفارتی حل کا امکان برقرار رکھنے پر زور
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک جانب ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہتا ہے، تو دوسری جانب مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازعات کے حل کا امکان بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔تاہم ایرانی ترجمان نے کسی مخصوص مذاکراتی عمل، مجوزہ معاہدے یا آئندہ سفارتی رابطوں کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی برقرار
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خدشات پر توجہ مرکوز ہے۔موجودہ صورت حال میں ایران کی جانب سے سفارت کاری کے امکان کو برقرار رکھنے کا بیان اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس سے کسی نئے مذاکراتی عمل کے آغاز یا کسی معاہدے پر پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوتی۔