بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ،ملتان کو خطرہ

 شیر شاہ بند پر شگاف سے مزید 30 ہزار آبادی متاثر ہونیکا خدشہ ، بہاولپور میں حفاظتی بندٹوٹنے سے ہزاروں افراد پھنس گئے، 
چھتوں ، درختوں پرچڑھ کرمددکاانتظارکرتے،مزید 5 اموات،کشتی حادثہ میں لاپتہ 3 کمسن بچوں کی لاشیں برآمد، مزید 9 مارے گئے
منچن آباد ، کہروڑ پکا ،اوچ شریف میں بھی تباہی ابتک 4300 دیہات ،مجموعی طور پر 42 لاکھ 1 ہزار لوگ متاثرہوئے:ریلیف کمشنر پنجاب 
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت کی جانب سے ایک بار پھر دریائے ستلج میں پانی کا بڑا ریلا چھوڑ دیا گیا، وزارت آبی وسائل نے نیا الرٹ جاری کر دیا، سیلابی ریلے سے ملتان کو خطرہ ، 2 روز اہم قرار ،متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو نقل مکانی میں مشکلات کا سامنا ہے، دوسری طرف دریائے ستلج اور چناب سے تباہی جاری ہے، مزید کئی مواضع اور بستیاں ڈوب گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں۔تفصیلات کے مطابق بھارت نے گزشتہ روز بھی بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے اطلاع دے کر دریائے ستلج میں پانی کا بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا جس سے ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہائو بڑھنے لگا، 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک کا ریلا گزرنے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے، ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا جبکہ دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے پر ملتان میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے ، انتظامیہ نے 2 دن اہم قرار دیئیہیں ،شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ ایک روز قبل کیا جا چکا ہے۔ سی پی او ملتان نے شیر شاہ بند توڑنے کے حوالے سے کہا ہے کہ آبادی ہونے کے باعث بند توڑنے کیلئے دھماکا خیزمواد استعمال نہیں کیا جائے گا، مکینیکل طریقے سے شگاف ڈالا جائے گا، دریائے چناب کے قریبی علاقے پہلے ہی پانی سے بھر چکیہیں،اکبر فلڈ بند اور شیر شاہ بند پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تریموں سے 5 لاکھ کیوسک سے اوپر کا ریلا دو روز تک ملتان کی حدود میں داخل ہو گا۔ ترجمان سٹی ٹریفک پولیس کے مطابق ہیڈ محمد والا روڈ پل چناب پہلے سے بند ہے ، شہری موٹروے ملتان سے سکھر کا راستہ استعمال کریں۔ دریائے چناب میں شیر شاہ کے مقام پر شگاف سے مزید 8 ہزار گھر اور 30 ہزار سے زائد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ادھر جلالپور پیر والا کیلئے آئندہ 24 گھنٹے خاصے خطرناک ہیں،شیرشاہ بستی، کھوکھراں بستی، گاگراں خان پور، قاضیاں کے علاقے خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر گئے ،جلالپور پیروالا میں سیلابی پانی شہر کے بند تک پہنچنے پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا، شہر کو بچانے کیلئے وہاڑی پل بند کو توڑ دیا گیا، آئندہ 12 گھنٹے انتہائی اہم قرار دے دیئے گئے، مساجد میں اعلانات کئے گئے کہ شہری علاقہ فوری خالی کردیں۔ سی پی او ملتان صادق ڈوگر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ تحصیل جلالپور میں کْچھ مقامات ایسے ہیں جہاں سیلابی پانی سے لوگوں کو مْشکلات کا سامنا ہے ،60 کشتیوں کی مدد سے اب تک 9ہزار200 لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا چْکا ، 3ہزار افراد اب بھی سیلاب متاثرہ علاقے میں موجود ہیں اور انھیں نکالنے کی کوشش جاری ہے۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقہ سیت پور میں پانی کے بہائو سے سرکاری حفاظتی بند ٹوٹ گیا اورپانی سیت پور کی متعدد نواحی بستیوں میں داخل ہو گیا ،سیت پور اور علی پور شہر کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں دریائے ستلج، چناب اور راوی میں شدید طغیانی اور اونچے درجے کے سیلاب سے متعدد مزید مواضع اور بستیاں ڈوب گئیں، کھڑی فصلیں تباہ ، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بہاولپور میں ہیڈپنجند میں اونچے درجے کے سیلاب سے درجنوں آبادیاں زیرآب آگئیں، گزشتہ رات اچانک حفاظتی بندٹوٹنے سے سرورآباد رتڑ نہڑ والی، دوست پور بستی، ڈاھڑاں بستی ،بوھڑاں بیٹ، لنگاغلاموں، کھاکھی کلروالی اورموضع ودھنورکی آبادی زیرآب آچکیں اورہزاروں افراد پانی میں پھنس چکے جنہیں نکالنے کیلئے ایک کشتی بھی فراہم نہ کی گئی ، لوگ بھوکے پیاسے مکانوں کی چھتوں اوردرختوں پرچڑھ کرمددکاانتظارکرتیرہے ۔سینکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت فصلیں دریا برد ہو گئیں، سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں 100 کے قریب بستیاں اور موضع جات پہلے ہی زیر آب آ چکے ۔علاوہ ازیں بہاولنگر کے دریائی بیلٹ میں ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد فلڈ ریلیف کیمپس ، خیمہ بستیوں، شاہراہوں، کھلے مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، دریائی بیلٹ میں 34 سکولز کو غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کردیا گیا ، متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء￿ ، ادویات اور جانوروں کے لئے چارے کی بھی قلت ہے۔ منچن آباد کے مقام پر بھی ستلج سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ۔67 موضع جات اور بستیوں میں سیلابی کیفیت برقرار ہے، رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں۔ اوچ شریف میں دریائے چناب اور ستلج سے درجنوں دیہات ڈوب گئے، مکانات اور دیواریں گر گئیں، بیٹ احمد، بختیاری، کچی لعل، رسول پور و دیگر علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ ستلج میں طغیانی کے باعث ضلع لودھراں کی دو تحصیلیں لودھراں اور کہروڑپکا زیادہ متاثر ہوئی ہیں ،کہروڑپکا میں متعدد بند ٹوٹ گئے اور پانی آبادیوں میں 8 کلومیٹر تک داخل ہو گیا جس سے زمینی رابطے منقطع ہوگئے، سڑکیں بہہ گئیں، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے اور بند باندھنے پر مجبورہیں اورانہیں کوئی امداد نہیں مل رہی۔ ادھر ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے دریائوں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائوں کے بہائو میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک،سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک ، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہائو 69 ہزار کیوسک ، خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 1 لاکھ 8 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر پانی کا بہائو 4 لاکھ 16 ہزار کیوسک، پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہائو 4 لاکھ 52 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 59 ہزار کیوسک ، بلوکی ہیڈ ورکس پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اورپانی کا بہا ئو1 لاکھ 4 ہزار کیوسک ،ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اورپانی کا بہائو 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔دریں اثناء￿  این ڈی ایم اے نے سندھ اور بلوچستان میں ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ۔ بلوچستان کے جنوبی و مشرقی اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش متوقع ہے۔ علاوہ ازیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال سیلاب اور بارشوں سے اموات کی تعداد 927 تک پہنچ گئی ،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد جاں بحق اور دو بچے زخمی ہوگئے ،ایک دن میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 26 گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔مزید برآں کراچی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرتے ہوئے 9 ستمبر کو شیڈول امتحانات ملتوی کردیے ہیں ۔دوسری جانب منگل کو کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا اوراس کے باعث شاہراہِ فیصل سمیت کئی علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ ادھر رحیم یارخان کشتی الٹنے سے لاپتہ ہونیوالوں میں سے تین کمسن بچوں کی لاشیں برآمد ہو گئیں، ایک روز قبل دو خواتین سمیت تین افراد کی لاشیں مل گئی تھیں، نوروالا کے علاقہ میں کشتی ڈوبنے سے تین بچوں سمیت7افراد لاپتہ بھی ہوگئے تھے، ایک ہی خاندان کے افراد کی ہلاکتوں کی تعداد6ہو گئی جبکہ رحیم یارخان کے موضع بخشوبھتڑمیں پرائیویٹ کشتی کے ذریعے محفوظ مقام پرمنتقلی کے دوران ماں کی گود سے گر کر سیلابی پانی میں ڈوبنے والی 8ماہ کی بچی اسماء کی لاش تاحال نہیں مل سکی، تلاش جاری ہے۔جبکہ رحیم یارخان کے موضع گبول سدھوالی کارہائشی 65سالہ منظوراحمد گزشتہ روز سیلابی پانی سے اپنے رشتہ داروں کواپنی مددآپ کے تحت ربڑکے ڈرم پربیٹھ کر بچانے کی کوشش کرنے کے دوران سیلابی پانی میں گرکرڈوب کر جاں بحق ہوگیا،ریسکیو عملہ نے لاش نکال کر ورثاء کے حوالے کردی۔ علاوہ ازیں چنیوٹ کے علاقہ چناب نگر میں 22سالہ نبیل احمد گذشتہ روز روڈ پر جاتے ہوئے پائوں پھسلنے کے باعث سیلابی پانی میں جا گرا اور ڈوب کر جاں بحق ہو گیا،ریسکیو 1122 نے پانی سے لاش نکال کر ورثاء  کے سپرد کر دی۔ کمالیہ کے نواحی علاقے میں نامعلوم نوجوان میاںچنوں چیچہ وطنی روڈ سے تیر کر خان داچک کی طرف آنے کی کوشش کے دوران ڈوب گیا اور اسے بچانے کی کوشش میں مقامی رہائشی نوجوان شہباز بھی سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا،دونوں نوجوانوں کی تلاش شروع کر دی گئی۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں دریائے راوی سے اٹھنے والے بگولے نے تباہی مچادی ، بگولے کی زد میں آ کر متعدد مویشی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ ادھر کندیاں میں گزشتہ دو روز سے جاری مسلسل بارشوں کے باعث دریائے سندھ بپھر گیا، کچہ کے علاقے شدید کٹائو کی لپیٹ میں آ گئے، موضع شاہ نواز والا اور بھکڑہ میں دریائی کٹائو سے پرائمری سکول ،مسجد پانی میں بہہ گئے ،جبکہ 130 ایکڑ سے زائد قیمتی زرعی اراضی بھی دریا کی نذر ہو گئی۔ 11 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے سٹڈز بھی تباہ ہو گئے، علاقہ مکین سخت مشکلات اور بے بسی کا شکار ہیں۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید سیلاب کے باعث 4300 سے زائد دیہات ،مجموعی طور پر 42 لاکھ 1 ہزار لوگ متاثر ہوئے ، سیلاب میں پھنسے 21 لاکھ 63 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ مویشیوں کے علاج کیلئے 431 ویٹرنری کیمپس قائم کئے گئے جبکہ 15 لاکھ 79 ہزار مویشیوں کوبھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 90 فیصد تک بھر چکا ، پونگ ڈیم 99 فیصد اور تھین ڈیم بھی 97 فیصد تک بھر چکا ، حالیہ سیلاب کے باعث 60 شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔