بھارت کی آبی دہشت گردی، ستلج میں پانی چھوڑ دیا

 کئی دیہات کارابطہ منقطع ، آئندہ 2 روز میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان 
 لاہور،قصور (خصوصی رپورٹ)بھارتی آبی جارحیت جاری، دریائے ستلج میں پھر سیلابی ریلا چھوڑ دیا، گرشتہ روز گنڈاسنگھ والا تلوار پوسٹ کے مقام پر پانی کا بہائو1لاکھ 15ہزار46کیوسک ، فتح محمد پوسٹ پر پانی کی سطح10.30جبکہ کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح 20.20فٹ ریکارڈ کی گئی۔ بھارت کی جانب سے دوبارہ دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے پر گنڈاسنگھ والا سے ملحقہ دیہاتوں حاکووالا، کالوواڑہ ، گٹی کلنجرسمیت دیگر دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج میں سیلاب بارے الرٹ جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 2 روز میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ دریائے ستلج اور راوی میں پانی کے بہا ئوکا انحصار بھارتی آبی ذخائر سے اخراج پر ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نیکہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے ،حالیہ بارشوں سے پنجاب کے دریاوں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں کے بہاو میں اضافے کا امکان ہے ، شہریوں سے التماس ہے خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کر یں۔ ادھر وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا فلڈ سروے جاری ہے ،27 اضلاع میں 2200 سے زائد سروے ٹیمیں کشتیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر گھر گھر پہنچ رہی ہیں ،ایک لاکھ 62ہزار سیلاب متاثرین کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ،سیلاب سے متاثرہ 45ہزار999 مکانات کی تفصیلات درج کر لی گئیں ،5 لاکھ ایکڑ سے زائد متاثرہ زرعی اراضی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مختلف اضلاع سے فلڈ سروے میں 6ہزار921 ہلاک مویشیوں کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ ضلع قصور کی چاروں تحصیلوں قصور، پتوکی، کوٹ رادھاکشن اور چونیاں میں سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالہ اور متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تباہی کا تخمینہ لگانے کیلئے بھی سروے کاآغاز ہو چکا۔ واضح رہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں سیلاب متاثرین کو 17اکتوبر کو امدادی چیک تقسیم کئے جانے کی کافیصلہ ہو چکا ہے۔