نیپال: پارلیمنٹ ہائوس‘سپریم کورٹ‘سرکاری رہائشگاہیں نذرآتش‘وزیراعظم مستعفی‘دبئی فرار

مظاہرین نے وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ بھی نذرآتش کردی‘ وزراء  کے گھروں اور سیاسی دفاتر پر  حملے کئے گئے ‘ کانگریس پارٹی کے مرکزی دفتر کی کھڑکیاں بٹوٹ گئیں
نیپالی فوج نے وزرا ء کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان کے گھروں سے نکال کر فوجی بیرکوں میں منتقل کیا‘مظاہرین نے  وزیرتوانائی کے گھر میں توڑ پھوڑ کی ‘  تجوری سے پیسے نکال کر لٹا دیئے

کھٹمنڈو(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک) نیپال کے وزیرِاعظم کے پی شرما اویلی نے کرپشن مخالف احتجاج کے بڑھنے پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا،‘نیپال کے مستعفی وزیراعظم کے پی شرما اولی کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملک سے فرار ہونے کی ویڈیو  سامنے آگئی۔نیپال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی اٹھائے جانے اور وزیراعظم شرما اولی کے استعفے کے باوجود احتجاج جاری ہے۔مظاہرین کرپشن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔کٹھمنڈو میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگا دی۔ مظاہرین نے وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ، بعض سرکاری رہائش گاہوں اور سپریم کورٹ کو آگ لگا دی جبکہ وزرا کے گھروں اور سیاسی دفاتر پر حملے بھی کیے۔پتھرائو سے نیپالی کانگریس پارٹی کے مرکزی دفتر کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ہرین نے  وزیرتوانائی کے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور  تجوری سے پیسے نکال کر لٹا دیے‘مظاہرین کے خلاف کریک ڈان پر 3  وزرا او ر وزیراعظم مستعفی ہوگئے تھے۔جس کے بعد مستعفی وزیراعظم شرما اولی کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملک سے  فرار ہونے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بظاہر دیکھا گیا کہ مستعفی وزیراعظم شرما اولی ملک سے نکلنے کیلئے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ رہے ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ دبئی روانہ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ نیپالی فوج نے وزرا کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان کے گھروں سے نکال کر فوجی بیرکوں میں منتقل کرنا بھی شروع کر دیا۔دوسری جانب وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے کے بعد صدر رام چندر نے نیا حکومتی سربراہ منتخب کرنے کے لیے مشاورت شروع کردی ہے ۔ نیپال نے ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا سے پابندی اٹھا لی۔