دوحہ کی ایک عمارت کو اسرائیل نے اس وقت نشانہ بنایا جب حماس کے رہنما غزہ میں جنگ بندی سے متعلق اہم اجلاس کر رہے تھے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی اعلیٰ قیادت، بشمول الخلیل الحیا اور خالد مشعل، کو نشانہ بنایا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق الخلیل الحیا اپنے ساتھی کے ساتھ شہید ہوگئے جبکہ خالد مشعل محفوظ رہے، تاہم حماس ذرائع نے وضاحت دی کہ اجلاس میں شریک تمام رہنما محفوظ ہیں۔ اجلاس میں زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق بھی شریک تھے اور خلیل الحیا کی زیرصدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ عالمی میڈیا نے بھی اس حملے کو حماس کی مذاکراتی ٹیم کے خلاف قرار دیا ہے، مگر اب تک کسی کے شہید یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔