رفیع صحرائی
مرزا غالب نے کیا خوب کہا ہے کہ
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
قوم کو مبارک ہو کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے قرض کی ایک نئی قسط کی منظوری دے دی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، برآمدات، روزگار کے مواقع اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری پر خوش ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں خوشی کا ایک بڑا موقع یہ بن چکا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے قرض کی ایک نئی قسط منظور کر دی ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کو ایک ارب 21 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ یوں دونوں پروگراموں یعنی EFF اور RSF کے تحت مجموعی رقم 5 ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ EFF یعنی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی معیشت کو مستحکم کرنے اور معاشی مسائل پر قابو پانے کا طویل مدت کا قرض پروگرام ہے جبکہ RSF یعنی ریزیلنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی پروگرام پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے معاشی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے ہے۔ دونوں پروگراموں کے تحت ملنے والی رقم قرض و مالی معاونت کا حصہ ہے، جسے سود سمیت واپس کرنا ہو گا۔
یہ خبر بظاہر اطمینان کا باعث ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں، معاشی استحکام کی طرف پیش رفت ہوئی ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہم آخر کب تک قرض کی نئی قسط کو معاشی کامیابی سمجھتے رہیں گے؟ کیا ہم کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو پائیں گے یا آئی ایم ایف کی بیساکھیاں مستقل روگ کی طرح ہمارے ساتھ چمٹی رہیں گی؟
قرض لینا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ضرورتوں کے لیے قرض لیتے ہیں، لیکن اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قرض ہماری معیشت کی ضرورت کے بجائے ہماری معاشی بقا کا مستقل سہارا بن جائے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہی ہے کہ ہم ایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لیتے ہیں اور پھر اس قرض کی شرائط پوری کرنے کے لیے ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کا براہِ راست بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے۔
آئی ایم ایف کے تازہ اعلامیے میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں بروقت اضافہ، تیل کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ، گردشی قرضے پر قابو پانے، روپے کی شرحِ تبادلہ میں لچک، سخت مالیاتی پالیسی، نجکاری اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت سمیت متعدد اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے حکومت کو وسیع پیمانے پر ایندھن سبسڈی ختم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے جو دراصل حکم ہے جس کی تعمیل کر کے حکومت اپنے عوام کو مزید مہنگائی کے حوالے کرنے جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے فیصلے ہماری اپنی ترجیحات ہیں اور کتنے فیصلے قرض دینے والے ادارے کی شرائط ہیں؟
اسی مقام سے ہماری معاشی خودمختاری کا سوال جنم لیتا ہے۔ جب حکومت کو بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط کا سامنا ہو، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے معاملے میں اسی ادارے کی اجازت کا خیال رکھا جائے، تو عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ملک کی معاشی پالیسی آخر اسلام آباد میں بنتی ہے یا واشنگٹن میں؟
تاہم یہاں ایک حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف ہماری موجودہ معاشی کمزوری کا بنیادی سبب نہیں بلکہ اس کمزوری کی ایک علامت ہے۔ اصل بیماری کہیں زیادہ گہری ہے۔ کمزوری ہماری اپنی ہے جس کا پورا فائدہ آئی ایف اٹھا رہی ہے۔ ہم نے کئی دہائیوں تک ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے اور براہِ راست ٹیکس وصولی کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا، برآمدات بڑھانے کے بجائے درآمدی معیشت کو فروغ دیا، سرکاری اداروں کی اصلاح کرنے کے بجائے انہیں سیاسی مصلحتوں کا شکار رکھا، توانائی کے شعبے میں لائن لاسز اور چوری ختم کرنے کے بجائے نرخ بڑھانے کو آسان راستہ سمجھا اور اخراجات میں کمی کے بجائے آمدن بڑھانے کے لیے عوام کی جیب کو ہدف بنایا۔ قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی گئی جبکہ مراعات یافتہ طبقے پر گاہے گاہے مزید نوازشات کی بارش ہوتی رہی۔ ان حالات نے ہماری معیشت کو ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے کہ اس سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کی رسی ہمیں نجات دہندہ لگنے لگتی ہے جبکہ اصلاحی اقدام نہ ہونے کی وجہ سے ہم دلدل میں مزید دھنستے چلے جا رہے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر ہر چند سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی ہے تو پھر ہماری معاشی منصوبہ بندی کہاں ہے؟ ہر حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد معیشت کی خراب حالت کا ماتم کرتی ہے، آئی ایم ایف سے نیا پروگرام حاصل کرتی ہے، کچھ عرصہ ’’استحکام‘‘ کے دعوے ہوتے ہیں، پھر سیاسی یا انتظامی دباؤ میں اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں اور چند سال بعد ہم دوبارہ اسی دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ قرض کا چکر نہیں تو اور کیا ہے؟ تازہ اعلامیے میں مہنگائی میں کمی، معاشی شرح نمو، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ یہ کامیابیاں یقیناً قابلِ تحسین ہیں، لیکن معاشی استحکام اس وقت تک پائیدار نہیں ہوسکتا جب تک اس کے ثمرات عام شہری تک نہ پہنچیں۔ اگر قومی معیشت کے اعدادوشمار بہتر ہوں مگر ایک مزدور کا بجلی کا بل، ایک کسان کی ٹیوب ویل کی لاگت، ایک دکاندار کے کاروباری اخراجات اور ایک متوسط گھرانے کا ماہانہ بجٹ مسلسل دباؤ میں ہو تو ہمیں اپنی کامیابی کے پیمانے پر بھی غور کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام کو آسان، کاروبار دوست اور ڈیجیٹل بنانے، صحت و تعلیم کے اخراجات بڑھانے، کم آمدنی والے طبقے کے لیے سماجی تحفظ مضبوط کرنے اور برآمدات و نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی زور دیا ہے۔ ان میں سے بہت سی تجاویز دراصل ایسی ہیں جن پر
ہمیں کسی عالمی ادارے کے کہنے سے پہلے خود عمل کرنا چاہیے تھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اگر ہمیں اپنے ملک کی معیشت کو کھڑا کرنا ہے تو ہمیں آئی ایم ایف سے نجات کے لیے آئی ایم ایف مخالف نعرے نہیں بلکہ آئی ایم ایف سے بے نیازی کی معیشت بنانا ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکس چوری کا خاتمہ، ٹیکس نیٹ میں حقیقی توسیع، زرعی و صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کا فروغ، توانائی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات، سرکاری اداروں کے نقصانات کا خاتمہ، غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، سیاسی بنیادوں پر دی جانے والی مراعات کا خاتمہ اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ریاست اپنے وسائل کہاں خرچ کرتی ہے۔ اگر ایک طرف عام آدمی بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ اٹھائے اور دوسری طرف ریاستی اخراجات، مراعات، غیر پیداواری منصوبوں اور خسارے میں چلنے والے اداروں پر بے دریغ پیسہ خرچ ہوتا رہے تو معاشی اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ عوام ہی کیوں اٹھائیں؟ قرض لینے سے پہلے اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے اور وسائل پیدا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں قرض کو کامیابی اور خود انحصاری کو محض ایک خواب سمجھنا چھوڑنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی ہر قسط وقتی طور پر ہماری ضرورت پوری کرسکتی ہے، لیکن مستقل معاشی استحکام صرف اس وقت آئے گا جب ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔