ڈاکٹر جمشید نظر
بجلی کی قیمت میں ریلیف ’’قوم کو مبارک ہو۔ آئندہ بھی اس طرح کے بے شمار ریلیف دیں گے۔‘‘وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ان الفاظ کے ساتھ بجلی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تو مایوس عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔حکومت کی جانب سے عوام کو دیا جانے والایہ وہ تحفہ تھا جس کی پیش گوئیاں عید الفطر سے قبل کی جارہی تھیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان صرف ایک اقتصادی ریلیف نہیںبلکہ یہ عوامی اعتماد کو بھی بحال کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عوامی بے چینی اور احتجاجات نے حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کیا تھا اس اعلان سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہواہے کہ حکومت ان کے مسائل اور تکالیف کو سمجھتی ہے اور ان کے مفاد میں فیصلے کر رہی ہے۔یہ بات سب بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کا سات ارب ڈالر کا قرض پروگرام جاری ہے جس کے تحت کسی قسم کی مراعات دینے کی ممانعت ہوتی ہے اس کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف نے کس طرح عوام کوریلیف دینے کے لئے آئی ایم ایف کو رضامند کیا یہ واقعی ایک مشکل مرحلہ تھا ۔اس ریلیف کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ خاص طور پر گرمی کے موسم کے آغاز میں دیا گیا ہے جب بجلی کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے اور گھریلو صارفین کو بجلی کے بلز کی ادائیگی میں شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مجھے یاد ہے پچھلی گرمیوں میں جب بجلی کے بل آئے تو عوام بلبلا اٹھی تھی،بجلی کے بلوں پر گھریلوجھگڑے اور خودکشی کے واقعات بھی سامنے آئے ۔
صنعتی شعبے کے لیے اس ریلیف کے اعلان کا خاص فائدہ یہ ہوگا کہ بجلی کی کم قیمتوں سے پیداواری لاگت بھی کم ہو گی جو کہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میںنہ صرف صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا بلکہ برآمدات کے شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔ جب صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی تو وہ عالمی مارکیٹ کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کرسکیں گی جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی اس کے علاوہ اگر صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات روزگار کے مواقع پر بھی پڑیں گے۔ صنعتیں زیادہ پیداوار کے ساتھ اپنے آپریشنز کو بڑھا سکتی ہیں جس سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بے روزگاری کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی کا یہ اقدام فی الوقت عوام اور صنعتوں کو فائدہ تو دے گا لیکن اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میںمزید کیا اصلاحات کرتی ہے کیونکہ پاکستان کا توانائی کا نظام کئی برسوں سے مشکلات کا شکار ہے اور بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں کمی کے ساتھ ساتھ بجلی کی چوری اور لائن لاسز بھی ایک بڑی پریشانی ہیں اس لیے حکومت کوبجلی کی قیمت میں کمی کو مستقل بنانے کے لیے توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں استحکام آ سکے۔اگر حکومت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے، جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دے اور توانائی کے وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کرے تو نہ صرف قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ ملک کو توانائی کی کمی کا سامنا بھی نہیں ہوگا اس کے علاوہ’’ renewable energy ‘‘یعنی متبادل توانائی کے ذرائع جیسے سولر، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کی کوششیں بھی اس حوالے سے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے وعدہ کیاہے کہ ملک میں گردشی قرضوں میں کمی لائی جائے گی، اوپن مارکیٹ قائم کر کے بجلی کو مزید سستا کیا جائے گا اور ڈسکوز کی فوری نجکاری کی جائے گی جس سے بجلی کی پیداوار بڑھے گی اور اس کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے جو نہ صرف گھریلوصارفین کے لئے بلکہ صنعتی شعبے کے لیے بھی فائدہ مندثابت ہوگا۔ وزیراعظم کے اعلان کے بعد گھریلو صارفین کی زندگی میں آسانی کی امید جاگی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے صارفین کی ماہانہ بلز میں واضح کمی آئے گی جو کہ ایک بوجھ کم کرنے کے مترادف ہے خاص طور پر وہ گھرانے جو کم آمدنی رکھتے ہیں ان کے لیے یہ کمی بہت اہمیت کی حامل ہے اگر قیمتوں میں اس کمی کا فائدہ صحیح طور پر عوام تک پہنچتا ہے تو اس سے ان کے روزمرہ کے اخراجات میں خاطر خواہ بچت ہو سکتی ہے۔