یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اسلام آباد کی عدالت میں توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بیانات جمع کرائے گئے ہیں۔
دونوں نے اپنے بیانات میں اپنے دفاع کی کوشش کی ہے اور کئی اہم نکات اٹھائے ہیں:
عمران خان کا بیان:
انہوں نے سوال کیا کہ کیا 2018 میں توشہ خانہ پالیسی کے مطابق صرف رپورٹ نہ کرنے کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہے؟بتایا کہ 7 سے 10 مئی 2021 کے دوران تحفے وصول کیے گئے، جن پر نیب کا کیس بنا۔ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے رولز میں اس حوالے سے کوئی واضح دائرہ اختیار نہیں، اس لیے چوتھے جعلی کیس میں انہیں اور ان کی بیوی کو بری کرنا چاہیے۔انہوں نے انعام اللہ شاہ پر اعتماد نہ کرنے کی وجوہات بھی بیان کی اور بتایا کہ انعام اللہ شاہ کو وزیراعظم آفس سے برطرف کیا گیا کیونکہ وہ بددیانت طریقے سے تنخواہیں لے رہا تھا۔
عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یہ من گھڑت کیسز 2022 سے بنائے جا رہے ہیں۔
بشریٰ بی بی کا بیان:
انہوں نے بتایا کہ بلغاری جیولری سیٹ کی ادائیگی کر کے اسے اپنے پاس رکھا ہے اور انعام اللہ شاہ کو کم قیمت لگانے کا حکم نہیں دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انعام اللہ شاہ پہلے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ اور پھر وزیراعظم ہاؤس میں کام کرتا رہا، اور اسے تنخواہیں لینے پر برطرف کیا گیا۔بشریٰ بی بی نے سوال اٹھایا کہ اگر انعام اللہ شاہ نے انہیں کم قیمت لگانے کا فائدہ 3 ارب 20 کروڑ کا دیا، تو پھر جولائی 2021 میں انہیں صرف 70 ہزار کی اضافی تنخواہ لے کر برطرف کیوں کیا گیا؟انہوں نے نیب کے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا اور کہا کہ کیسز کو سیاسی انتقامی کارروائی سمجھتی ہیں۔
بشریٰ بی بی نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ ایف آئی اے کا اس کیس میں کوئی اختیار نہیں، اور من گھڑت رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔یہ بیانات اس اہم کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے موقف کا خلاصہ ہیں، جہاں دونوں نے اپنے حق میں دلائل دیے اور دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف بنائے گئے کیسز من گھڑت اور سیاسی انتقامی کارروائیاں ہیں۔ عدالت نے دونوں کو 342 کے سوالنامے کے جواب دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنے بیانات جمع کرائے ہیں۔