پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی، عمران خان، اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیلوں کے حالات، عدالت کے فیصلے اور وکیل کے بیانات کی مکمل تفصیل پر مبنی ہے۔ آئیے اسے مرحلہ وار اور تفصیل سے واضح کرتے ہیں:
1. عدالتی سماعت اور آفس اعتراضات
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر آفس اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔عدالت نے بروقت اپیلیں دائر نہ ہونے کے آفس اعتراض کو ختم کرنے کے لیے نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی۔جسٹس خادم حسین سومرو نے متفرق درخواست پر سماعت کی اور وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے کیس کی وضاحت طلب کی۔
2. وکیل سلمان صفدر کے دلائل
سلمان صفدر نے بتایا کہ اپیلیں 20 دسمبر کو سزا کے فیصلے کے بعد 29 دسمبر کو دائر کی گئی تھیں، اور اپیل کے ساتھ مصدقہ نقل فیصلے بھی جمع کروائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ آفس نے اعتراضات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، اور جب سزا معطلی کی درخواست دائر کی تو 14 فروری کو انہیں اعتراضات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اپیل ایک دفعہ دائر ہو جائے تو اسے وقت پر دائر شدہ ہی مانا جائے گا، اور غلطی وکیل کی جانب سے نہیں ہوئی۔
3. عدالتی ہدایات اور ریمارکس
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ 21-22 سال وکالت کے بعد یہ ہوتا ہے کہ جب وکیل اپنی فائل چھوڑ دیتا ہے تو اعتراضات آ جاتے ہیں۔عدالت نے آفس اعتراضات اونچی آواز میں پڑھنے اور سلمان صفدر کو متفرق درخواست جمع کروانے کی ہدایت دی۔کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
4. بانی پی ٹی آئی کے کیسز اور اپیلیں
سلمان صفدر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی اہم اپیلیں القادر کیس اور توشہ خانہ ٹو ہیں۔القادر کیس میں بانی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی توقع ہے، سماعت بدھ کے روز مقرر ہے۔توشہ خانہ ٹو اپیل کو ابھی تک آفس نمبر الاٹ نہیں ہوا، نمبر الاٹ ہونے کے بعد ہی سماعت آگے بڑھے گی۔اپیل نمبر ملنے کے بعد سزا معطلی کی باقاعدہ سماعت ہوگی۔
5. جیل میں موجود کیسز
بانی پی ٹی آئی اس وقت صرف دو کیسز میں جیل میں ہیں: توشہ خانہ ٹو اور القادر کیس۔سلمان صفدر کے مطابق، عید سے پہلے اپیلوں پر سماعت ہوئی تو رہائی ممکن ہے۔دونوں کیسز آپس میں منسلک ہیں اور الگ نہیں کیے جا سکتے۔
6. کلیدی نکات
آفس اعتراضات کی وجہ سے اپیلیں بروقت اثر نہیں کر سکیں۔عدالت نے نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی تاکہ اعتراضات ختم ہوں۔اپیل نمبر الاٹ ہونے کے بعد سزا معطلی پر باقاعدہ سماعت ہوگی۔بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے امکانات عید سے پہلے ممکن ہیں۔