پنجاب کے دل لاہور میں اس وقت شدید فضائی آلودگی چھائی ہوئی ہے، جس سے شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
سموگ کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، اور عالمی درجہ بندی کے مطابق لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ شہر میں آج کی اوسط AQI 183 ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ "غیر صحت مند" زمرے میں آتی ہے، اور اس سے ماہرین صحت نے فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شدت کی فضائی آلودگی سانس، آنکھوں، گلے اور جلدی بیماریوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور حساس افراد کے لیے یہ صورتحال بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ محکمہ ماحولیات اور سموگ مانیٹرنگ سنٹر کی جانب سے شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا استعمال کریں، کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں، اور اگر کسی ماحولیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی ہو تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1373 پر اطلاع دیں۔موسمیاتی صورتحال کے حوالے سے، محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ آج لاہور کا کم سے کم درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ موجودہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ ہوا کی رفتار 3 کلومیٹر فی گھنٹہ اور نمی کا تناسب 77 فیصد ہے، جس سے فضا میں نمی زیادہ اور آلودہ ذرات کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
سموگ مانیٹرنگ سنٹر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آج لاہور کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 165 رہنے کا امکان ہے۔ صبح 11 بجے تک ہوا کی رفتار کم رہنے کی توقع ہے، اور دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے کے دوران AQI کی سطح 145 سے 150 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ شام 6 بجے سے رات 11 بجے کے دوران AQI میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، لیکن دن کے آخر تک ہوا کی رفتار 5 میل فی گھنٹہ تک بڑھنے سے فضا میں معمولی بہتری آنے کا بھی امکان ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانا ایک سنگین جرم ہے، اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب مل کر سموگ کو کم کر سکتے ہیں اور ایک صاف ستھرا ماحول قائم کر سکتے ہیں۔پنجاب حکومت کے سموگ و موسمیاتی تبدیلی کے نگران جدید نظام نے آج کی تفصیلی موسمیاتی اور ایئر کوالٹی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ نمی، درجہ حرارت اور ہوا کی رفتار جیسے عوامل فضائی آلودگی پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، شہریوں اور حکام کو چاہیے کہ فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔