کراچی: شدید گرمی میں گردے کے مسائل میں اضافہ، ماہرین کی احتیاطی تدابیر پر زور

کراچی: شدید گرمی میں گردے کے مسائل میں اضافہ، ماہرین کی احتیاطی تدابیر پر زور

کراچی میں گردے کے انفیکشنز کے کیسز میں اضافے کے حوالے سے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ گرم اور مرطوب موسم کے دوران شہریوں میں پانی کی کمی اور پسینے کی زیادتی کی وجہ سے گردے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

جناح اسپتال کراچی کی ماہر امراض گردہ ڈاکٹر مہرین عروج نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں گردے کے انفیکشنز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی علامات میں کمر کے نچلے حصے میں درد، پیشاب میں جلن، خون یا پیپ آنا اور بخار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علامات گردے میں انفیکشن یا سوزش کی نشاندہی کرتی ہیں، جو کہ اگر نظر انداز کی جائیں تو خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم گرما میں جسم سے زیادہ پسینہ خارج ہوتا ہے اور شہری عموماً پانی کم پیتے ہیں، جس سے گردے کی صفائی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور نمکیات و منرلز گردے میں جمع ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف انفیکشن بلکہ پتھری کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

جناح اسپتال میں گزشتہ ایک ماہ میں گردے کے انفیکشن کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے، اور اب روزانہ 150 مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی پئیں تاکہ ان کے جسم سے مناسب مقدار میں پیشاب خارج ہو سکے، جو گردوں کی صفائی اور صحت کے لیے ضروری ہے۔