آئینی ترمیم کیخلاف آزاد عدلیہ کے حامیوں سے مل کر احتجاج کرینگے، تحریک تحفظ آئین پاکستان

آئینی ترمیم کیخلاف آزاد عدلیہ کے حامیوں سے مل کر احتجاج کرینگے، تحریک تحفظ آئین پاکستان

اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بند کمروں میں بننے والی پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کریں گے اور آئینی ترمیم کے خلاف تحریک چلائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ پر یقین رکھنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے آواز بلند کریں گے۔ضلعی کچہری کے باہر ایک خودکش دھماکے کے واقعے کے بعد، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور افسوس کا اظہار کیا۔ وفد میں محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر اور مصطفی نواز کھوکھر شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہداء کے خاندانوں کے لیے کوئی پیکیج اعلان نہیں کیا گیا اور زخمی افراد اپنی دیکھ بھال خود کر رہے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے زور دیا کہ پارلیمان میں سیاسی فیصلے ہونے چاہئیں، بند کمروں میں پالیسی سازی سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا اور آزاد عدلیہ کے حق میں تحریک چلانے کا عزم ظاہر کیا۔اسد قیصر نے کہا کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آیا تھا، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی عہدیدار خود کش حملے کے بعد بھی جوڈیشل کمپلیکس نہیں آئے اور شہداء کے لیے امدادی پیکج کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو کمزور کیا گیا ہے، اور انصاف کے نظام کے خاتمے کے نتیجے میں قانون کی حکمرانی ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ وہ ان ترمیمات کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے اور جمعہ کو یوم سیاہ منائیں گے۔اس کے علاوہ، رہنماؤں نے سیاست میں گراوٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیاست کی بے توقیری کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 1973 کے آئین کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور توقعات رکھی تھیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز شریف عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے، مگر انہوں نے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین کی بالادستی برقرار رہنی چاہیے۔